کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کسی کو پلانے کے لئے قرآن مجید لکھنے کے جواز کے بیان میں (احادیث)
حدیث نمبر: 25052
٢٥٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: إذا (عسر) (١) على المرأة ولدها، فيكتب هاتين (الآيتين) (٢) والكلمات في صحفة، ثم تغسل فتسقى منها: بسم اللَّه (الذي) (٣) لا إله إلا هو الحليم الكريم، سبحان اللَّه رب السماوات السبع ورب العرش العظيم، كأنهم يوم يرونها لم يلبثوا إلا عشية أو ضحاها، كانهم يوم يرون ما يوعدون لم يلبثوا إلا ساعة من نهار، بلاغ فهل يهلك إلا القوم الفاسقون (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ جب کسی عورت کو بچہ کی ولادت میں تنگی ہو تو ان دو آیتوں اور کلمات کو ایک صفحہ پر لکھ دیا جائے پھر اس کو دھو کر یہ پانی عورت کو پلایا جائے۔ (الفاظ کا ترجمہ یہ ہے) شروع اس خدا کے نام سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو بہت بردبار اور کرم کرنے والا ہے۔ پاک ہے اللہ ، جو رب ہے ساتوں آسمانوں کا اور جو رب ہے عرش عظیم کا۔ { کَأَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوا إِلاَّ عَشِیَّۃً ، أَوْ ضُحَاہَا } اور { کَأَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوعَدُونَ لَمْ یَلْبَثُوا إِلاَّ سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ بَلاَغٌ فَہَلْ یُہْلَکُ إلاَّ الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25052
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25052، ترقيم محمد عوامة 23974)
حدیث نمبر: 25053
٢٥٠٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن أبي معشر عن عائشة أنها كانت لا ترى بأسًا أن يعوذ في الماء ثم يصب على المريض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ وہ پانی میں دم وغیرہ کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتی تھیں کہ پھر وہ پانی مریض پر بہا دیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25053
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25053، ترقيم محمد عوامة 23975)
حدیث نمبر: 25054
٢٥٠٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن خالد عن أبي قلابة وليث عن مجاهد أنهما لم يريا بأسًا أن يكتب (آية) (٢) من القرآن ثم يسقاه صاحب الفزع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ اور حضرت مجاہد کے بارے میں روایت ہے کہ یہ دونوں حضرات اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ قرآن مجید کی کوئی آیت لکھی جائے اور پھر ڈرے ہوئے آدمی کو پلائی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25054
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25054، ترقيم محمد عوامة 23976)
حدیث نمبر: 25055
٢٥٠٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) قال: (حدثنا) (٢) حجاج قال: أخبرني من رأى سعيد بن جبير يكتب التعويذ لمن أتاه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج کہتے ہیں کہ مجھ سے اس آدمی نے بیان کیا جس نے حضرت سعید بن جبیر کو دیکھا تھا کہ جو ان کے پاس (بغرض تعویذ) آتا وہ اس کے لئے تعویذ لکھتے تھے۔ حجاج کہتے ہیں۔ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا : تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا : اے اہل عراق ! ہم نے تو تمہارے علاوہ کسی سے اس کا ناپسند ہونا نہیں سُنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25055
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25055، ترقيم محمد عوامة 23977)
حدیث نمبر: 25056
٢٥٠٥٦ - قال حجاج: وسألت عطاء فقال: ما سمعنا (كراهيته) (١) إلا من قبلكم (٢) أهل العراق.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25056
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25056، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 25057
٢٥٠٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن شعبة قال: (أخبرنا) (١) قتادة عن سعيد بن المسيب قال: سألته عن النشر فأمرني بها، قلت: (أرويها) (٢) عنك؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ ، سعید بن المسیب کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میں نے ان سے آسیب کے تعویذ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے اس کی اجازت دی۔ میں نے (ان سے) کہا۔ میں اس (تعویذ) کو آپ کی نسبت سے روایت کروں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25057
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25057، ترقيم محمد عوامة 23978)
حدیث نمبر: 25058
٢٥٠٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد قال: أخبرنا ابن عون عن إبراهيم عن الأسود أن أم المؤمنين عائشة سئلت عن النشر فقالت: (ما تصنعون) (١) بهذا؟ هذا ⦗١٣٣⦘ (الفرات) (٢) إلى جانبكم يستنقع فيه أحدكم (سبعًا) (٣) يستقبل الجرية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آسیب کے تعویذات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا : تم لوگ اس سے کیا بناتے ہو ؟ یہ تمہارے قریب فرات کا دریا ہے۔ اس میں (آ کر) تم میں سے کوئی ایک پانی کے بہاؤ کی طرف منہ کرکے سات مرتبہ غوطہ لگا لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25058
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25058، ترقيم محمد عوامة 23979)