کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص چیز خریدنے کے بعد اس میں کچھ کمی یا زیادتی پائے
حدیث نمبر: 24952
٢٤٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما قالا في الرجل يبيع قوسرة أو حلة، ثم يعطيه (بقيتها) (١) عددا (يكيلها) (٢)، أنهما كرها ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اور حسن رحمہ اللہ دونوں حضرات اُ س شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو کھجور کا برتن فروخت کرے پھر اس کو اس کا باقی حصہ گن کردیا جائے جس میں وہ کیل ہے، تو دونوں حضرات نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 24953
٢٤٩٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن قتادة وأبي (هاشم) (١) في رجل اشترى عشرة آلاف جوزة بثلاثين درهما يشتريه عددا، ثم (يُصيّر) (٢) (بجرة) (٣) (أو بجرتين) (٤) ثم (يعدون) (٥) بقيته على ما في الجرتين، قالا: هو مكروه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اور حضرت ابو ہاشم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دس ہزار اخروٹ تیس درہم کے گن کر خریدے، پھر ان کو ایک یا دو مٹی کے گڑھوں میں ڈال دئیے گئے، پھر جو باقی رہ گئے تھے دو گڑہوں میں ان کو شمار کرنے لگے، تو آپ دونوں حضرات نے اس کو ناپسند فرمایا۔