حدیث نمبر: 24943
٢٤٩٤٣ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل عن الحسن في ⦗٩٧⦘ الرجل يصرف الدنانير) (١) فيعطى (الدرهم) (٢) الزيف. قال: لا بأس أن (يستبدله) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص دینار میں بیع صرف کرتا ہے اور کھوٹے درہم دیتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر وہ تبدیل کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24944
٢٤٩٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: وقال سفيان: إن كان (ستوقا) (١) رده، ويكون شريكا في الدنانير بحصته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر وہ کھوٹے ہیں تو واپس کردیا جائے گا، اور وہ اس دیناروں میں اپنے حصہ میں شریک ہوں گے۔
حدیث نمبر: 24945
٢٤٩٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: لو أن رجلا جاء إلى صيرفي بدينار فصرفه عنده بعشرة دراهم (فقبض) (١) الدينار، وليس عند الصيرفي (درهم) (٢)، قال: إن احتالها له قبل أن (يفترقا) (٣) فإن البيع جائز، لأن كل واحد منهما (ضمن) (٤) لصاحبه، ولو كان عرضا فسد البيع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص زرگر کے پاس دینار لے کر آئے اور اس کے پاس درہم کے ساتھ تبدیل کرے، اور وہ دینار پر قبضہ کرلے اور زرگر کے پاس دراہم نہ ہوں ؟ فرمایا : اگر انہوں نے جدا ہونے سے پہلے اس کے لئے تبدیل کرلیا ہے تو بیع جائز ہے، اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک کا ثمن دوسرے پر ہے، اور اگر وہ سامان تھا تو بیع فاسد ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 24946
٢٤٩٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: قال) (١) سفيان في عشرة (دراهم) (٢) (بتسعة) (٣) (وفلس) (٤)، فكرهه، وعشرة دراهم بتسعة دراهم وذهب، لم ير به بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان دس دراہم کو نو درہم اور فلس کے بدلے تبدیل کرنے کو ناپسند فرماتے ۔ اور دس درہم کو نو درہم اور سونے کے ساتھ تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 24947
٢٤٩٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إذا (سمى) (١) برئ وإن لم يضع يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر اس نے بیان کردیا (کہ اس میں فلاں عیب ہے) تو وہ بری الذمہ ہوگیا اگرچہ ہاتھ رکھ کر نہ بتائے۔
حدیث نمبر: 24948
٢٤٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال (أبو حنيفة) (١): إذا قال: برئت من كل (عيب) (٢): برئ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر یوں کہے کہ میں ہر عیب سے بَری ہوں تو بَری ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 24949
٢٤٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الربيع (بن سعد) (١) قال: سألت أبا جعفر عن رجل أشتري منه طعاما فيعطيني بعضه ثم يقطع به فلا (٢) يعطيني، فيقول: (بعني) (٣) (٤) طعامك حتى (أقضيك) (٥)، قال: لا تقربن هذا، (هذا) (٦) الربا الصراحية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے دریافت کیا کہ ایک شخص سے میں نے گندم خریدی اس نے کچھ مجھے دے دیا اور پھر وہ کہیں چلا گیا اور باقی مجھے نہیں دیا اور کہتا ہے کہ : اپنی گندم مجھے فروخت کر دے یہاں تک کہ میں آپ کو ادا کر دوں ؟ فرمایا اس بیع کے قریب مت جانا یہ صراحۃً سود ہے۔
حدیث نمبر: 24950
٢٤٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص (عن) (١) سليمان (أبي) (٢) عبد اللَّه قال: قال الحسن: من (احتاز) (٣) من رجل مالا، أو سرق من رجل ⦗٩٩⦘ (مالا) (٤) فأراد أن يرده إليه من وجه لا يعلم، فأوصله إليه فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کا مال رکھ لے یا کسی کا مال چوری کرلے پھر اس کو وہ مال اس طرح واپس کرنا چاہے کہ اس کو علم نہ ہو اور اس کو وہ مال پہنچا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24951
٢٤٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن (سلم) (١) بن أبي (الذيال) (٢) قال: سألت الحسن عن شريكين اشتريا متاعا، (فباعاه) (٣) بربح (بنقد) (٤) ونسيئة، فقال (أحدهما) (٥) (لصاحبه) (٦): انقدني رأس مالي (٧)، وما (بقي) (٨) فهو (لك) (٩)، فكرهه الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلم فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ دو شریکوں نے مل کر کوئی چیز خریدی پھر اس کو کچھ نفع کے ساتھ فروخت کردیا کچھ نقد اور کچھ ادھار رقم کے ساتھ ، پھر اس میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : میرا راس المال مجھے دے دو ، جو باقی بچا وہ تمہارا، کیا یہ ٹھیک ہے ؟ حسن نے اس کو ناپسند فرمایا۔