حدیث نمبر: 24924
٢٤٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن أبي قلابة عن (أبي) (١) المهلب عن عمران بن حصين أن رجلا (كان) (٢) له ستة أعبد، فأعتقهم عند موته، فأقرع بينهم النبي ﷺ (٣) فأعتق منهم اثنين وأرق أربعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین سے مروی ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، اس نے موت کے وقت ان سب کو آزاد کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی فرمائی اور دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام باقی رکھا۔
حدیث نمبر: 24925
٢٤٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) إسرائيل عن عبد اللَّه بن مختار عن محمد بن زياد عن أبي هريرة عن النبي ﵇ أنه أقرع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ ڈالا۔
حدیث نمبر: 24926
٢٤٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو معاوية) (١) عن هشام بن عروة عن أبيه ⦗٩٢⦘ عن صفية أنها أقرعت بين حمزة وبين رجل في كفن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے حضرت حمزہ اور ایک شخص کے درمیان کفن کے معاملہ میں قرعہ ڈالا۔
حدیث نمبر: 24927
٢٤٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن صالح بن أبي (الأخضر) (١) عن الوليد بن (٢) هشام عن مالك بن عبد اللَّه الخثعمي قال: كنا جلوسًا عند عثمان فقال: من ها هنا من أهل الشام؟ فقمت فقال: أبلغ معاوية إذا غنم غنيمة أن يأخذ خمسة أسهم، فليكتب على كل سهم منها للَّه ثم ليقرع، فحيث ما خرج منها فليأخذه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان کی خدمت میں تھے، آپ نے فرمایا کہ یہاں شام والوں میں سے کوئی ہے ؟ میں کھڑا ہوگیا، آپ نے فرمایا حضرت معاویہ کو یہ پیغام پہنچا دو کہ : جب مال غنیمت آئے تو اس میں پانچ حصے الگ کردو، پھر اس میں سے ایک حصہ پر لکھ لو کہ یہ اللہ کے لئے ہے، پھر قرعہ ڈالو، پھر جو اس میں نکلے اس کو لے لو۔
حدیث نمبر: 24928
٢٤٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة أن النبي ﷺ (١) كان إذا سافر (أقرع) (٢) بين نسائه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے ۔
حدیث نمبر: 24929
٢٤٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا عبد الواحد ابن أيمن عن ابن أبي مليكة عن القاسم عن عائشة عن النبي ﷺ (١) بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 24930
٢٤٩٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن أسلم المنقري عن سعيد بن جبير أنه أقرع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ قرعہ اندازی فرماتے ۔
حدیث نمبر: 24931
٢٤٩٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أسلم عن سعيد بن جبير مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 24932
٢٤٩٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن (الأجلح) (١) عن الشعبي عن عبد اللَّه بن الخليل الحضرمي عن زيد بن (أرقم) (٢) قال: اختصم إلى عليِّ قوم (قال) (٣): (فقال) (٤): (إني) (٥) (مقرع) (٦) (بينكم) (٧)، قال: فذكر ذلك (للنبي) (٨) ﷺ، فضحك حتى (بدت) (٩) نواجذه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ جھگڑتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہوگئے۔
حدیث نمبر: 24933
٢٤٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد بن الحارث عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن خلاس عن أبي رافع عن أبي هريرة أن رجلين ادعيا دابة، ولم يكن ⦗٩٤⦘ لهما بينة، فأمرهما النبي ﷺ أن يستهما على اليمين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی ایک جانور کے متعلق جھگڑتے ہوئے حضور ﷺ کی خدمت میں آئے، دونوں کے پاس گواہ نہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ۔
حدیث نمبر: 24934
٢٤٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أسامة بن زيد عن عبد اللَّه ابن رافع عن أم سلمة أن النبي ﷺ قال لرجلين: "استهما ثم (توخيا الحق) (١)، ثم (ليحلل) (٢) كل واحد (منكما) (٣) صاحبه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں سے فرمایا : تم دونوں قرعہ اندازی ڈالو پھر حق بات کا قصد کرو، اور پھر تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ وہ اپنا حصہ دوسرے کے لئے قابلِ استعمال بنائے۔
حدیث نمبر: 24935
٢٤٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه أن (ابن) (١) الزبير أقرع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی قرعہ ڈالا۔
حدیث نمبر: 24936
٢٤٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد (عن) (١) (عبيدة) (٢) أنه أقرع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبیدہ نے قرعہ ڈالا۔
حدیث نمبر: 24937
٢٤٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر السمان عن ابن عون قال: بلغ محمد ابن سيرين أن عمر بن عبد العزيز أقرع فقال: (ما أرى) (١) هذا (إلا من) (٢) (الإستسقام) (٣) بالأزلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے قرعہ ڈالا پھر فرمایا : میرے نزدیک تو یہ استسقام بالازلام ہی ہے۔ (زمانہ جاہلیت میں تیروں کے ذریعہ قرعہ اندازی کی جاتی تھی اس کی طرف اشارہ ہے) ۔