حدیث نمبر: 24920
٢٤٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك (بن) (١) مخلد (٢) عن ابن جريج ⦗٩٠⦘ عن عطاء في الرجل يستأجر الأجير سنة (بطعامه) (٣)، وسنة بخراج بكذا وكذا، قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص ایک سال کے طعام کی اجرت پر مزدور لے یا ایک سال کے اخراج پر اتنے اتنے عرصہ کے لئے تو کیسا ہے ؟ فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24921
٢٤٩٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن (جريج) (١) قال: قلت (لعطاء) (٢): (أواجر) (٣) غلامي (على) (٤) أن أطعمه سنة وهو سنة، وفي الثالثة بخراج كذا وكذا، قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ میرا غلام ایک سال کے طعام کی اجرت پر لے لیا گیا، اور ایک اور سال اور تیرے سال خراج کے ساتھ اتنے اتنے میں ؟ فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24922
٢٤٩٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن (جرير) (١) بن حازم عن حماد أنه كره أن يستأجر الرجل بطعامه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اس کو ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی کو طعام کے بدلے اجرت پر لیا جائے ۔
حدیث نمبر: 24923
٢٤٩٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (الجريري) (١) عن (مضارب) (٢) ابن (حزن) (٣) عن أبي هريرة قال: كنت أجيرًا (لبسرة) (٤) ابنة (صفوان) (٥) بطعامي ⦗٩١⦘ وعقبة (رحلي) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ :