حدیث نمبر: 24906
٢٤٩٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن أبيه قال: شهد رجل عند عمر ابن عبد العزيز على شهادة، فقال المشهود عليه: إنه لا (تقبل) (١) (شهادته) (٢)، قال: ولم؟ قال: لا يدري من أبوه؟ قال: ائتني بشاهد سواه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس گواہی دی ، جس کے خلاف گواہی دی تھی اس نے کہا : اس کی گواہی قبول نہیں، آپ نے دریافت فرمایا کیوں ؟ اس شخص نے کہا کہ کیونکہ اس کے والد کا نہیں پتہ، حضرت عمر نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی اور گواہ لاؤ۔
حدیث نمبر: 24907
٢٤٩٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن زهير (العبسي) (١) عن الشعبي قال: ولد الزنى يؤم، وتجوز شهادته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ولد الزنا امانت کروا سکتا ہے اور اس کی گواہی قبول ہے۔
حدیث نمبر: 24908
٢٤٩٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن هشام الدستوائي عن يحيى ابن أبي كثير عن رجل عن نافع قال: لا تجوز شهادة ولد الزنى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ولد الزنا کی گواہی قبول نہیں۔
حدیث نمبر: 24909
٢٤٩٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن هشام (١) عن حجاج أن ابن عباس كان يقول: تجوز شهادته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی جائز ہے۔