کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص یوں کہے: جس دن میں فلاں کو خریدوں تو وہ آزاد ہے
حدیث نمبر: 24883
٢٤٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي في رجل قال: يوم أشتري فلانا فهو حر، فاشتراه، قال: هو حر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر یوں کہے جس دن میں نے فلاں کو خریدا تو وہ آزاد ہے اور پھر اس کو خرید لے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 24884
٢٤٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب عن حماد بن سلمة عن إبراهيم (قال: إذا) (١) قال: إن (اشتريت) (٢) هذا العبد فهو حر، فاشتراه فهو حر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ میں نے اس غلام کو خریدا تو یہ آزاد پھر اس کو خرید لے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 24885
٢٤٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن نمير عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يقول: يوم (أشتري) (٢) فلانا فهو حر، قال: يوم يشتريه فهو عتيق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ جس دن میں فلاں کو خریدوں تو وہ آزاد ہے۔ اب جس دن بھی وہ اس کو خریدے گا وہ آزاد ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 24886
٢٤٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) يحيى بن سعيد قال: أخبرني (عبد) (٢) اللَّه ابن رفاعة الأنصاري قال: قيل لرجل: ذكر أنك (تريد أن) (٣) تبتاع فلانة: (وليدة) (٤) سموها، فقال الرجل: (إن ابتعتها فهي حرة) (٥)، فزعم عبد اللَّه أنه سأل سعيد بن المسيب فقال: أما أنا فلا (أراه) (٦) شيئا، وأما عمر بن عبد العزيز فيأباه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن رفاعہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو کہا گیا، تو فلاں باندی کو فروخت کرنے کا ارادہ کر رہا ہے، اس شخص نے کہا : اگر میں نے اس کو فروخت کردیا تو وہ آزاد ہے، حضرت عبد اللہ نے گمان کیا کہ حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا : میں تو بہر حال کوئی خرابی نہیں سمجھتا، اور حضرت عمر بن عبد العزیز اس سے منع فرماتے ۔
حدیث نمبر: 24887
٢٤٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا. . .، (١)، وكان القاسم وسالم (لا) (٢) يرخصان لأحد في طلاق أو عتاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم طلاق اور عتاق میں کسی کو مہلت نہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 24888
٢٤٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن (الحسن) (١) في الرجل يقول: إن اشتريت فلانة فهي حرة، أو كل جارية اشتريتها عليك فهي حرة، أنه إن اشترى شيئا من ذلك فقد عتق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو یوں کہے کہ اگر میں نے فلاں باندی کو خریدا تو وہ آزاد، یا یوں کہے کہ ہر وہ باندی جو تجھ سے خریدوں وہ آزاد، تو اگر وہ اس سے کچھ خریدے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔