کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سوت کاتنے والے پر سوت کا دعویٰ کیا جائے
حدیث نمبر: 24882
٢٤٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد (اللَّه) (١) بن (سهل) (٢) (الغداني) (٣) عن منصور بن (حيان) (٤) عن الشعبي قال: كان نساج في بيته غزول الناس، (فاحترق بيته) (٥) فاحترقت (غزول) (٦) الناس، فبقي ثلاث كُبّات، فانطلق بها إلى شريح ومعه امرأتان، فقالت إحداهما: هو غزلي، وقالت (الأولى) (٧): (لا) (٨) واللَّه! هو غزلي، (قال) (٩): (فخلا) (١٠) (إحداهما) (١١) فقال: على (أيش) (١٢) (كببت) (١٣) غزلك؟ قالت: على (قشر جوزة) (١٤)، وقال للأخرى: على (أيش) (١٥) (كببت) (١٦) غزلك؟ ⦗٧٩⦘ (قالت) (١٧): على (كسرة) (١٨) (خبز) (١٩) فقال: يا نساج! اذهب فانقض هذا الغزل، فإن (كان) (٢٠) على قشرة جوزة فادفعه إلى هذه، وإن كان على كسرة خبز فادفعه إلى هذه (٢١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ ایک اون بننے والا (سوت کاتنے والا) تھا، جس کے گھر لوگوں کے سوت تھے، اس کے گھر کو آگ لگ گئی، اس آگ میں لوگوں کے سوت بھی جل گئے، اس کے پاس صرف تین گولے اون کے رہ گئے، وہ ان کو لے کر حضرت شریح کے پاس آگیا اور اس کے ساتھ دو خواتین تھیں، ان میں سے ایک نے کہا یہ میرا سوت ہے اور دوسری خاتون نے کہا کہ نہیں خدا کی قسم یہ میری ہے، انہوں نے ان میں سے ایک کو الگ کیا، اور اس سے دریافت کیا تو نے کس چیز پر سوت کا گولا بنایا تھا ؟ اس نے کہا : اخروٹ کے چھل کہ پر، اور دوسری خاتون سے دریافت کیا کہ تو نے کس چیز پر سوت کا گولا بنایا تھا ؟ اس نے کہا روٹی کے ٹکڑے پر، آپ نے فرمایا : اے سوت کاتنے والے چلا جا اس سوت کے گولے تو ادھیڑ کر دیکھو اگر یہ اخروٹ کے چھل کہ پر ہو تو اس کو دے دو ، اور اگر روٹی کے ٹکڑے پر ہو تو پھر اس کو دے دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24882
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبيد اللَّه بن سهل الغداني صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24882، ترقيم محمد عوامة 23804)