حدیث نمبر: 24811
٢٤٨١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد في الرجل يبيع سرية قد ولدت منه فيشتريها رجل فيقع عليها (فتلد منه) (١) (أيضًا) (٢)، قال: ترد إلى الأول، ويكون لها صداق مثلها، ويكون ولدها (من) (٣) الآخر بمنزلتها يعتقون بعتقها، ويأخذ الآخر ثمنها من (الأول) (٤)، فإن (كان واحد) (٥) منهما علم أنه لا يصلح عوقب، (فإن) (٦) علما كلاهما (عوقبا) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے مروی ہے کہ اگر ایک آدمی اپنی ام ولد کو بیچ دے پھر خریدنے والا بھی اس سے وطی کرلے اور وہ باندی اس دوسرے کے پاس ایک اور بچہ جن دے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ باندی پہلے شخص کو واپس کی جائے گی۔ باندی کو مہر مثلی گا، اور اس کا دوسرا بچہ بھی اس کی طرح غلام شمار ہوگا اور مال کے آزاد ہونے سے وہ بھی آزاد ہوجائے گا اور دوسرا آدمی اول سے باندی کی دی ہوئی قیمت وصول کرے گا پھر اگر کسی ایک کو معلوم تھا کہ یہ درست نہیں ہے تو اس کو سزا دی جائے گی اور اگر دونوں جانتے تھے تو دونوں سزا کے حق دار ہیں۔