حدیث نمبر: 24809
٢٤٨٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن (زاذان) (١) ⦗٥٩⦘ قال: استودع (رجلان امرأة) (٢) وديعة وقالا لها: (لا) (٣) تدفعيها (لواحد) (٤) منا حتى نجتمع عندك، ثم انطلقا فغابا، فجاء أحدهما إليها (فقال) (٥): أعطيني وديعتي فإن صاحبي قد مات، فأبت حتى كثر اختلافه إليها ثم أعطته، (ثم جاء) (٦) الآخر بعد فقال: هاتي وديعتي، (فقالت) (٧): قد جاء صاحبك فذكر أنك قد مت، فأخذ وديعتكما مني، فارتفعا إلى عمر، فلما قصا عليه القصة قال لها عمر: ما أراك إلا قد ضمنت، قالت (المرأة) (٨): يا أمير المؤمنين! اجعل (عليا) (٩) بيني وبينه، (قال) (١٠) لعلي: اقض بينهما يا علي، قال علي: هذه الوديعة عندي، وقد (أمرتماها) (١١) ألا تدفع إلى واحد منكما حتى تجتمعا عندها، (فأتني) (١٢) بصاحبك، فلم يضمنها قال: (فرأوا) (١٣) (إنما) (١٤) أرادا أن يذهبا بمال المرأة (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان سے مروی ہے کہ دو شخصوں نے ایک خاتون کے پاس امانت رکھوانا چاہی اور ان دونوں نے اس سے کہا کہ ہم میں سے کسی کو یہ مت دینا مگر جب ہم دونوں ایک ساتھ آجائیں ، پھر وہ دونوں چلے گئے اور کہیں غائب ہوگئے، پھر کچھ عرصہ بعد ان میں سے ایک آیا اور خاتون سے کہا کہ میری امانت میرے حوالے کرو میرا دوست فوت ہوچکا ہے، اس خاتون نے انکار کیا یہاں تک کہ ان کا اختلاف بہت زیادہ ہوگیا، پھر خاتون نے اس کے حوالہ کردیا، پھر کچھ عرصہ بعد دوسرا آیا اور کہا کہ میری امانت میرے حوالہ کرو ، خاتون نے کہا کہ تیرا دوست آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میرا دوست فوت ہوگیا ہے اور وہ تمہاری امانت مجھ سے لے گیا ہے، وہ دونوں جھگڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے گئے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مکمل واقعہ سنایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے فرمایا : میرا نہیں خیال مگر یہ کہ تو ضامن ہے۔ خاتون نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہمارے درمیان حَکَم بنادیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ان کے درمیان فیصلہ کرو، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ امانت میرے پاس ہے، اور تم نے اس عورت کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ ہم میں سے کسی کو یہ ودیعت نہیں دینی، جب تک کہ دونوں اکٹھے حاضر نہ ہوجائیں۔ لہٰذا پہلے تو اتنا دوسرا ساتھی لے کر آ۔ آپ نے خاتون کو ضامن نہیں بنایا، راوی فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دونوں اس خاتون کا مال لے جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔