حدیث نمبر: 24788
٢٤٧٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة (بن) (١) سوار قال: حدثنا ليث (بن سعد) (٢) عن (بكير) (٣) عن عياض بن عبد اللَّه بن سعد عن أبي سعيد قال: أصيب رجل في عهد رسول اللَّه ﷺ في ثمار ابتاعها (فكثر) (٤) دينه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "تصدقوا عليه"، (فتصدق الناس عليه) (٥)، (فلم) (٦) يبلغ (ذلك) (٧) وفاء دينه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "خذوا ما وجدتم، وليس لكم إلا ذلك" يعني: الغرماء (٨).
حدیث نمبر: 24789
٢٤٧٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زمعة عن الزهري عن ابن كعب بن مالك عن أبيه أن النبي ﷺ مر به وهو (ملازم) (١) رجلا في أوقيتين، فقال رسول اللَّه ﷺ (٢) للرجل: هكذا بيده، أي ضع عنه الشطر، فقال (٣) الرجل: نعم يا رسول اللَّه! فقال: "أد إليه ما بقي من حقه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گذرے جو دوسرے کا دو أوقیہ کا مقروض تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اس سے ایک حصہ کم کر دے، اس شخص نے عرض کیا کہ ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے سے مخاطب ہوئے اور ارشاد فرمایا : اس کا جو باقی حق رہ گیا ہے وہ اس کو ادا کرو۔
حدیث نمبر: 24790
٢٤٧٩٠ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا وكيع) (١) قال: حدثنا الأعمش عن عمرو ابن مرة عن أبي صالح الحنفي أن قوما لزمهم ديون في زمن عمر بن الخطاب، فكتب عمر (٢) إلى عامله أن (يؤخروا) (٣) ثلثا إلى الميسرة ويحطوا (ثلثا) (٤) (ويتعجلوا ثلثا) (٥) ففعلوا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح الحنفی سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک قوم مقروض ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے عامل کو تحریر فرمایا کہ : ایک تہائی قرض کو تمّول تک مؤخر کردو، اور ایک تہائی ختم کردو اور ایک تہائی فوراً وصول کرلو، پس انہوں نے اسی طرح کیا۔