کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص باندی خریدے پھر اس کے پیٹ پرپھوڑا پائے
حدیث نمبر: 24763
٢٤٧٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: حدثنا سفيان عن أشعث عن علي بن مدرك أن الضحاك بن قيس اختصم إليه في جارية وجد بها (الدبيلة) (١) وهو داء قديم يعرف أنه ليس مما يحدث [فقضى به على البائع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک کے پاس ایک باندی کا جھگڑا لایا گیا جس کو دبیلہ بیماری تھی۔ یہ ایک مشہور بیماری ہے جو اچانک نہیں لگتی تو حضرت ضحاک نے بائع کے خلاف فیصلہ کیا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک کا قول مجھے حضرت شریح کی بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ جب معلوم ہوجائے کہ وہ نیا نہیں ہے تو وہ واپس کیا جائے گا، اور مشتری سے قسم لی جائے گی کہ اس نے خریدنے سے قبل اس کو نہیں دیکھا تھا اور دیکھنے کے بعد وہ اس پر راضی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24763
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24763، ترقيم محمد عوامة 23690)
حدیث نمبر: 24764
٢٤٧٦٤ - (وقال) (١) سفيان: وقول الضحاك (أحب) (٢) إلى من قول شريح: إذا كان يعرف أنه ليس مما يحدث] (٣) أن يرد ويوجب يمين المشتري أنه لم (يره) (٤) قبل أن يشتريه، ولم يرضه بعد ما رآه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24764
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24764، ترقيم محمد عوامة ---)