کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: سامان سمندر میں گر جائے، پھر اس میں سے ایک شخص وہ نکال لے
حدیث نمبر: 24738
٢٤٧٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (زيد) (١) بن الحباب عن موسى بن عُلّي قال: سألت الزهري عن مركب للعدو ألقته الريح إلى قوم، قال: هو لمن غنمه، وفيه الخمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے دریافت کیا کہ دشمن کی کشتی کو اگر ہوا کسی قوم کے پاس لے آئے تو اس کے سامان کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا وہ اس کے لئے غنیمت ہے جو پکڑ لے اور اس میں خمس ہے۔
حدیث نمبر: 24739
٢٤٧٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عثمان بن غياث قال: سئل (الحسن) (١) عن السفينة (تغرق) (٢) في البحر، [فيها متاع (لقوم) (٣) شتى، (فقال) (٤): ما ألقى البحر] (٥) على ساحله فهو لصاحبه، ومن غاص على شيء فاستخرجه فهو له.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ کشتی اگر سمندر میں ڈوب جائے اور اس میں قیدیوں کا سامان ہو ؟ فرمایا : جو سمندر خود ساحل پر ڈال دے وہ تو مالک کا ہوگا، اور جو غوطہ لگا کر نکالا جائے تو وہ نکالنے والے کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 24740
٢٤٧٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب عن حماد بن سلمة عن حجاج عن عطاء في البحر يطرح المتاع، قال: هو بمنزلة اللقطة، تعرف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ سمندر اگر سامان باہر پھینک دے تو وہ لقطہ کے مرتبہ میں ہے اس کا اعلان کیا جائے گا۔