حدیث نمبر: 24707
٢٤٧٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سويد بن (عمرو) (١) قال: (أخبرنا) (٢) (أبو) (٣) عوانة عن مغيرة عن إبراهيم والشعبي في الرجل يكون له الشاهد مع يمينه (قالا) (٤): لا (تجوز) (٥) إلا شهادة رجلين، أو رجل و (امرأتين) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس کے پاس ایک گواہ کے ساتھ قسم ہو، فرمایا : اس کے لئے جائز نہیں مگر دو مرد گواہی دیں یا پھر ایک مر د اور دو عورتیں گواہی دیں، حضرت عامر رحمہ اللہ نے فرمایا : کہ باوجودیکہ مدینہ والے کہتے ہیں کہ دو گواہوں کی گواہی طالب کی قسم کے ساتھ قبول ہے۔
حدیث نمبر: 24708
٢٤٧٠٨ - قال عامر: (مع) (١) أن أهل المدينة (يقولون) (٢): شهادة (الشاهد) (٣) مع يمين الطالب.
حدیث نمبر: 24709
٢٤٧٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب (عن الزهري) (١) قال: هي بدعة، وأول من قضى بها معاوية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ یہ بدعت ہے ، اور سب سے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا۔