حدیث نمبر: 24701
٢٤٧٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد أن رجلا بعث إلى عائشة بصرة من دنانير عليها "لعائشة أم المؤمنين" فلما انتهى القوم ⦗٢٨⦘ (قريبًا) (١) من المدينة أصابتهم سماء، فضاعت الصرة، فمضى القوم فأتوا المدينة، فنظر الرجل في الكتاب ثم جعل مثل الدنانير وكتب عليها، ثم جاء بالكتاب والصرة إلى عائشة، ومر قوم بذلك المنزل، فوجدوا الصرة مكتوب (٢) عليها، فجاؤوا بها إلى عائشة ﵂ (٣) فأرسلت (بذلك) (٤) إلى صاحب الدنانير (الأولى) (٥) فقالت (له) (٦): أخبرني خبر الدنانير، فقال لها: الخبر في الكتاب، فقالت: اصدقني، فأخبرها الخبر، قالت: قد أردت أن تطعمني ما لا يحل لي (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دیناروں کی تھیلی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجی، جس پر لکھا تھا کہ یہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہے۔ جب لوگ مدینہ کے قریب ہوئے تو ان پر آسمان سے آفت اتری اور وہ تھیلی ضائع ہوگئی، پھر وہ لوگ مدینہ آئے، اس شخص نے وہ کتابت دیکھی ہوئی تھی۔ پھر اس دیناروں کی طرح بنائے، اس پر وہی کچھ لکھا پھر وہ کتاب اور تھیلی لے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، بعد میں کچھ لوگ اس جگہ سے گذرے، اُنہوں نے وہاں پر تھیلی پائی جس پر لکھا ہوا تھا، وہ اس تھیلی کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لے کرآئے، انہوں نے وہ دینار پہلے والے شخص کو بھیج دئیے، اور اس سے فرمایا کہ مجھے ان دیناروں کے بارے میں بتاؤ، اس نے آپ سے عرض کیا کہ بات پوری کتاب میں لکھی ہوئی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : مجھے سچی سچی بات بتاؤ تب اس نے صحیح بات بتائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تو وہ چیز مجھے کھلانا چاہتا ہے جو میرے لئے حلال نہیں ہے ؟