کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کچھ لوگ ایک زمانے تک مکان میں رہائش پذیر رہے، پھر کچھ لوگ آئے اور اُس مکان پر دعویٰ کر دیں کہ وہ اُن کا ہے
حدیث نمبر: 24665
٢٤٦٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت حمادًا عن الرجل يكون في الدار حينا فيجيء أناس فيقيمون البينة أنها كانت لجدهم، قال: لا، حتى (يشهدوا) (١) أنها له اليوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص کچھ عرصہ ایک مکان میں رہا، پھر کچھ لوگ آئے اور گواہ اس بات پر پیش کر دئیے کہ یہ گھر ان کے آباؤ اجداد کا ہے ؟ فرمایا کہ نہیں جب تک کہ وہ اس پر گواہ پیش نہیں کردیں گے وہ گھر آج بھی انہی کا ہے۔
حدیث نمبر: 24666
٢٤٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث (قال) (١): إذا كانت الدار (خطة) (٢)، فأراد القوم (٣) أن يقتسموها، فإنها تقسم على الميراث: ميراث الميت صاحب (الخطة) (٤)، (فإن) (٥) ادعى إنسان من الورثة أو غيرهم دعوى فوق ما يصيبه من الميراث فعليه البينة فيما ادعى: أن فلانا أو أنه تصدق عليه أو ⦗١٦⦘ وهب لي أو باعني بكذا وكذا، (فإن) (٦) (طلبت) (٧) امرأة أو زوج كان لبعض بني الميت (فإنه) (٨) يكلف البينة على أن فلانا ورث فلانا، أو فلانة (ورثت) (٩) فلانا، أو مات صاحب الخطة قبلها أو هي قبلة فورثته، فإنه يأخذ بحقه، وإن كان رجل من ولد صاحب (الخطة) (١٠) يدعي فيها، وينكر الذين في أيديهم نصيبه، فعلى المدعي البينة أن فلانا مات قبل فلان، (وورثه فلان) (١١)، وورثته أنا بعد، وإذا أقر الورثة أنه قد (كان) (١٢) لصاحب (الدار) (١٣) امرأة، وادعى أهلها نصيبها، فهو ثابت عليهم، وإن قالوا: قد (كان) (١٤) طلقها قبل الموت فالبينة عليهم أنه قد كان طلقها، وإلا فقد وجب الميراث لها، وإذا كانت الدار (شراء) (١٥) وهي في يد قوم (فهي) (١٦) (للذي) (١٧) في أيديهم، فإن (ادعاه) (١٨) إنسان (فيها) (١٩) فعليه البينة أن له فيها حقا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث سے مرو ی ہے کہ جب گھر ایک آدمی کا ہو اور لوگ اس کو تقسیم کرنا چاہیں تو وہ اسی طرح تقسیم ہوگی کہ جس طرح میت کی میراث تقسیم ہوتی ہے۔ اگر کوئی اپنے لیے زیادہ حصہ کا دعویٰ کرے تو اس گواہ لانے ضروری ہوں گے کہ فلاں نے اس کو صدقہ یا ھبہ کیا ہے یا فلاں نے مجھے بیچا ہے۔ پھر قوم کے لوگ اس کو تقسیم کرنا چاہیں، بیشک وہ میت کی وراثت سے صاحب الخطۃ کے لئے میراث پر تقسیم کیا جائے گا، پھر اگر کوئی شخص دعویٰ کر دے ورثاء میں سے یا ان کے علاوہ میراث میں سے جو حصہ ملا ہے اس سے زیادہ کا تو اس پر گواہ ہیں جس کا وہ دعویٰ کر رہا ہے کہ فلان نے اس پر صدقہ کیا ہے یا میرے لئے ہبہ کیا گیا ہے یا مجھے اتنے میں فروخت کیا گیا ہے۔ اور اگر میت کے بیٹوں میں سے بعض کا جو حصہ تھا اس کو بیوی یا شوہر طلب کرے تو ان گواہی کا مکلف بنایا جائے گا کہ فلاں شخص فلاں کا وارث بنا ہے یا فلاں خاتون فلاں کی وارث بنی ہے ، یا صاحب الخطۃ اس سے قبل فوت ہوگیا تھا۔ خاتون اس سے قبل تو پھر یہ خاتون وارث ہوگی اور اپنا حصہ وصول کرے گی اور اگر صاحب الخطۃ کا کوئی بیٹا اس میں دعویٰ کر دے اور جو ان لوگوں کے قبضہ میں جو حصے ہیں ان کا انکار کر دے تو پھر مدعی کے ذمہ اس بات پر گواہی ہے کہ فلان فلان سے پہلے فوت ہوگیا تھا اور فلان وارث بن گیا تھا، اور اس کے بعد میں وارث بن گیا ہوں۔ اور اگر ورثاء اس بات کا اقرار کرلیں کہ گھر والی کی بیوی ہے اور دعویٰ کرے اس کے گھر والوں پر اس خاتون کے حصہ کا، تو پھر وہ ان پر ثابت ہوگا، اور اگر وہ یوں کہیں کہ اس نے موت سے قبل اس کو طلاق دے دی تھی تو پھر ان پر گواہ ہیں اس بات پر کہ وہ اس کو طلاق دے چکا ہے ، وگرنہ اس کے لئے میراث لازم ہوجائے گی، اور اگر گھر خریدا ہوا ہو اور وہ کچھ لوگوں کے قبضہ میں ہو تو وہ انہی کا ہوگا جن کے قبضہ میں وہ ہے، اور اگر کوئی شخص اس میں دعویٰ کر دے تو پھر اس کے ذمہ اس بات پر گواہی لازم ہے کہ اس کا اس میں حق ہے،
حدیث نمبر: 24667
٢٤٦٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: (ما) (١) أحدثوا شيئا أعجب إليَّ من قولهم: يشهد أنها له اليوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ لوگوں کی یہ بات مجھے سب سے عجیب لگتی جب وہ یوں کہتے ہیں کہ فلاں نے آج ہی یہ گواہی دی ہے کہ یہ مال فلاں کا ہے۔