حدیث نمبر: 24657
٢٤٦٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري (في) (١) رجل يصيب المال الحرام، قال: إن (٢) سره أن يتبرأ منه فليخرج منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو کو حرام مال ملے، اگر اس کو اچھا لگے کہ اس مال سے چھٹکارا حاصل کرے تو اس کو نکال دے۔
حدیث نمبر: 24658
٢٤٦٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن مالك بن دينار قال: قال: رجل لعطاء بن أبي رباح: رجل أصاب مالا من حرام، قال: ليرده على أهله، فإن لم يعرف أهله فليتصدق به، ولا أدري: ينجيه ذلك من إثمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عطاء بن ابی رباح سے عرض کیا کہ ایک شخص کو حرام مال ملا ہے ؟ فرمایا کہ اس کے مالک کو واپس کردینا چاہیئے، اور اگر مالک کا علم نہ ہو تو صدقہ کر دے، مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کرنے سے اسکا گناہ ٹل جائے گا۔
حدیث نمبر: 24659
٢٤٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي قال: زعم مالك بن دينار أن رجلًا سأل عطاء فقال: (إني) (١) كنت غلامًا فأصبت أموالا من وجوه لا أحبها فأنا أريد التوبة، قال: ردها إلى أهلها، قال: لا أعرفهم، قال: (تصدق) (٢) بها، فمالك من ذلك من أجر، وما أدري هل تسلم من وزرها أم لا؟
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ میں غلام تھا مجھے کچھ ایسے طریقوں سے مال ملا ہے جن کو میں پسند نہیں کرتا، اب میں توبہ کرنا چاہتا ہوں ! فرمایا ان کے مالک کو مال واپس کردو، میں نے عرض کیا کہ میں ان کو نہیں جانتا، فرمایا صدقہ کردو، تجھے کوئی ثواب نہ ملے گا، اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کا گناہ تجھ پر ہوگا کہ نہیں ؟ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے بھی اسی طرح فرمایا۔
حدیث نمبر: 24660
٢٤٦٦٠ - (قال) (١): (وسألت) (٢) مجاهدًا فقال: مثل ذلك.
حدیث نمبر: 24661
٢٤٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الربيع (بن) (١) سعد قال: سأل (رجل) (٢) أبا جعفر عن رجل، قال: صديق لي أصاب مالا حراما، فخالط كل شيء منه من أهله و (ما لهم) (٣)، (ثم) (٤) إنه عرف ما كان فيه، فأقبل على الحج و (على) (٥) جوار هذا البيت، فما ترى (له) (٦)؟ قال: أرى له (أن) (٧) يتقي (اللَّه) (٨) ثم لا يعود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ میرے دوست کو حرام مال ملا ہے، پھر سارے کا سارا مال اس نے اپنے اہل اور ان کے مال کے ساتھ ملا دیا۔ پھر اس میں جو قباحت اور برائی تھی اس کو معلوم ہوگئی اس نے وہ سارا مال حج اور بیت اللہ کے ہمسایوں پر خرچ کردیا تو آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو جعفر نے فرمایا : وہ اللہ سے ڈرے اور دوبارہ ایسا مت کرے۔
حدیث نمبر: 24662
٢٤٦٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن سليمان (أبي) (١) عبد اللَّه (قال) (٢): قال الحسن: من احتاز (من) (٣) رجل مالا (أو) (٤) سرق من رجل مالا ⦗١٤⦘ (وأراد) (٥) أن يرده (إليه) (٦) من وجه لا (يعلمه) (٧) فأوصله إليه، (فلا) (٨) بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ جس شخص نے دوسرے کا مال جمع کرلیا ہے یا کسی کا مال چرا لیا ہے ، اور اس کو اس طور پر واپس کرنا چاہتا ہے کہ وہ نہ جانے (اُس کو علم نہ ہو) اس لیے وہ اس کو سامان پہنچا دیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔