حدیث نمبر: 24649
٢٤٦٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: كان شريح يُحلّف (البتة) (١) في الرجل (يُدّعي) (٢) على أبيه (الدين) (٣)، فإن حلف وإلا ⦗١١⦘ أخذه منه، ويكون لأبيك على إنسان دين يدعيه (فتقيم) (٤) البينة، فإن (حلفت) (٥) مع بينتك وإلا لم (يعطك) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح نے قسم اٹھوائی آدمی سے اس کے والد پر دین کا دعویٰ کیا گیا ہے، پس اگر وہ قسم اٹھائے وگرنہ اُ س سے لیا جائے گا، اور تیرے والد کے لئے انسان پر دین ہے جو اس سے دعویٰ کیا جائے گا ، پس تو گواہ قائم کرے گا، پس اگر قسم اٹھا لے اپنی گواہی کے ساتھ وگرنہ نہیں عطاء نہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 24650
٢٤٦٥٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيره عن حماد عن إبراهيم قال: يُحلَّف في هذين البابين (على) (١) علمه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ان دونوں معاملات میں علم پر قسم اٹھوائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 24651
٢٤٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن الشعبي عن شريح أنه كان يستحلف (البتة) (١) على ما غاب وشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت شریح جو غائب اور جو حاضر ہے اس سے قسم طلب کرتے تھے ، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص میرے والد پر دین کا دعویٰ کرے جس کے متعلق مجھے علم نہ ہو کیا میں اس پر قسم اٹھا سکتا ہوں ؟ فرمایا ہاں اٹھا سکتے ہو، پس ان دونوں نے اس پر شدید انکار کیا، فرمایا قسم کو اس کی طرف پھیرا جائے گا جو تم سے زیادہ جانتا ہو، اور حضرت عامر اس قسم کو قبول فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 24652
٢٤٦٥٢ - قال: فقلت لعامر: أرأيت لو أن رجلا ادعى على أبي مالا لا علم لي به، أكان عليَّ أن أحلف (البتة) (١)؟ قال: نعم، فأنكرنا ذلك إنكارًا شديدًا فقال: رد اليمين على من هو أعلم بها منك.
حدیث نمبر: 24653
٢٤٦٥٣ - قال: وكان عامر يأخذ به.
حدیث نمبر: 24654
٢٤٦٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن إبراهيم قال: ما ولي الرجل (بنفسه) (٢) استحلف (البتة) (٣)، وما وليه غيره استحلف على علمه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنے نفس کا ولی نہیں بنایا گیا کہ اس سے حلف البتہ طلب کیا جائے، اور نہ ہی اس کے علاوہ کے لئے اختیار ہے کہ اس کے علم پر قسم اٹھوائے۔
حدیث نمبر: 24655
٢٤٦٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: يستحلف الرجل (فيما) (١) ادعى على أبيه على علمه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے والد پر دعویٰ کیا جائے تو اس کے علم پر قسم طلب کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 24656
٢٤٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمارة بن أبي حفصة قال: اختصم رجلان إلى الحسن فقال له: استحلفه في حق كان (لأبيه) (١) لم يشهد أباه، قال: فقال الحسن: (وهل) (٢) يحلف على هذا أحد يعقل؟
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ بن ابی حفصہ سے مروی ہے کہ دو شخص جھگڑتے ہوئے حسن کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر اس سے کہا کہ اس سے قسم اٹھوائیے اس کے والد کے حق میں اس کے والد نے گواہی نہیں دی، حسن نے فرمایا : کیا کوئی عاقل شخص اس پر قسم اٹھائے گا۔