حدیث نمبر: 24643
٢٤٦٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم (قال: إذا اشترى) (١) (الرجل) (٢) الدابة فوجد بضرسها عيبا فأراد ردها، فإنه يحلف (باللَّه) (٣) إنه لمن أجل (ضرسها) (٤) ردها، وإن كان عيبا سوى ذلك لم يحلف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جانور خریدنے کے بعد اس کی داڑھ میں عیب پائے اور اس کو واپس کرنا چاہے تو وہ یوں قسم اٹھائے گا کہ وہ اس داڑھ کے عیب کی وجہ سے واپس کر رہا ہے، اور اگر اس کے علاوہ کوئی عیب ہو تو پھر قسم نہیں اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 24644
٢٤٦٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن (حنش) (١) بن الحارث عن علي ابن مدرك النخعي أن رجلا اشترى من رجل جارية فلم يجد لها أضراسا، فخاصمه إلى شريح، فقال شريح: بينتك أنه (باعكها) (٢) وليس لها أضراس، وإلا فيمينه (باللَّه) (٣) أنه (باعكها) (٤) ولها أضراس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن مدرک النخعی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے باندی خریدی اس کی داڑھ نہ تھی، وہ جھگڑا حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس لے گیا، حضرت شریح نے فرمایا : تو اس بات پر گواہ پیش کر کہ اس نے تجھے بلا داڑھ کے باندی فروخت کی ہے، وگرنہ وہ قسم اٹھائے گا کہ اس نے تجھے فروخت کیا ہے اور اس کی داڑھ تھی۔