کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی شخص کے خلاف فیصلہ کر دیا جائے پھر وہ دوسرے سے فیصلہ دوبارہ کروائے
حدیث نمبر: 24636
٢٤٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (أبي) (١) عدي (عن ابن عون) (٢) عن محمد قال: كان القاسم (بن محمد) (٣) خاصم إلى قاض فقضى عليه، فعزل ذلك القاضي فجاء غيره، فكان يقضي للقاسم، فقيل له: لو (خاصمت) (٤) إليه، فقال: لا، إني قد خاصمت إلى قاض فقضى علي.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت قاسم بن محمد اپنا جھگڑا ایک قاضی کے پاس لے کر گئے، انہوں نے اس کے خلاف فیصلہ کردیا، پھر اس قاضی کو معزول کردیا گیا، پھر اس کے بعد قاضی تبدیل ہوگیا۔ دوسرا قاضی قاسم کے حق میں فیصلہ کیا کرتا تھا۔ کسی نے ان سے کہا کہ اگر آپ جھگڑا اس کے پاس لے جاتے ! حضرت قاسم نے فرمایا : نہیں ، میں فیصلہ قاضی کے پاس ہی لے کر گیا تھا پس اس نے فیصل کردیا۔