حدیث نمبر: 24607
٢٤٦٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد (عن) (١) (سعيد) (٢) بن المسيب في رجل أعتق عبده (وشرط) (٣) خدمته، قال: إذا أعتقه بطل شرطه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب نے اس شخص کے متعلق فرمایا جس نے خدمت کی شرط لگا کر غلام کو آزاد کردیا، فرمایا : جب اس نے غلام آزاد کیا تو اس کی شرط باطل ہوگئی۔
حدیث نمبر: 24608
٢٤٦٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد (عن) (١) أبي (حيان) (٢) التيمي (عن أبيه) (٣) أن (جارة) (٤) لشريح (دخلت) (٥) عليه (ومعها) (٦) جارية (لها) (٧) فقالت: يا أبا (أمية) (٨)! إني أعتقت جاريتي هذه، قال: قد أسمع ما تقولين، (قالت) (٩): وشرطت عليها خدمتي ما دمت حية، فقال شريح: ها هي هذه إن شاءت فعلت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حیان التیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت شریح کی باندی اپنی باندی لے کر حضرت شریح کی خدمت میں آئی، اور عرض کیا اے ابو امیہ ! میں نے اپنی اس باندی کو آزاد کردیا ہے۔ آپ نے فرمایا : جو تو کہہ رہی ہے میں وہ سن چکا ہوں، باندی نے عرض کیا کہ ! جب تک میں زندہ ہوں میں نے خدمت کی شرط لگائی ہے، حضرت شریح نے فرمایا : یہ اس پر ہے، اگر چاہے تو کرے۔
حدیث نمبر: 24609
٢٤٦٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي كيران عن الضحاك في امرأة أعتقت خادما لها ثم استثنت، قال الضحاك: (تعتق) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک نے اس خاتون کے متعلق فرمایا جس نے اپنے خادم کو آزاد کر کے پھر استثناء کرلیا، آپ نے فرمایا وہ آزاد ہے۔
حدیث نمبر: 24610
٢٤٦١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن (حجاج) (١) عن القاسم ابن عبد الرحمن عن المغيرة بن سعد بن الأخرم عن أبيه أن رجلا أتى ابن مسعود (فقال) (٢): إني أعتقت أمتي هذه، واشترطت عليها أن (تلي مني ما تلي) (٣) الأمة ⦗٥٥٤⦘ من سيدها (إلا) (٤) الفرج -أو قال: غير الفرج- فلما غلظت رقبتها قالت: إني حرة، قال: ليس ذلك (لها) (٥) خذ برقبتها فانطلق بها، فلك ما اشترطت عليها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن الاخرم سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے اپنی اس باندی کو آزاد کردیا ہے، اور میں نے اس پر شرط لگائی ہے کہ جس طرح باندی آقا کی خدمت کرتی ہے اس طرح میری خدمت کرے گی، سوائے اس کی شرم گاہ کے، پھر جب میں نے اس کی غلامی میں سختی کی تو یہ کہتی ہے کہ میں آزاد ہوں، آپ نے فرمایا : اس کو اس بات کا اختیار نہیں ہے، اس کو پکڑ کرلے جاؤ، جو شرط آپ نے لگائی ہے اس پر اس کو پورا کرنا ضرور ی ہے۔
حدیث نمبر: 24611
٢٤٦١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن سعيد بن (جُمهان) (٢) عن سفينة أن أم سلمة (أعتقته) (٣) واشترطت عليه أن يخدم النبي ﷺ ما عاش (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفینہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو آزاد کردیا اور ان پر یہ شرط لگا دی کہ جب تک زندہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرے۔