حدیث نمبر: 24593
٢٤٥٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن (حسن) (١) بن صالح قال: قلت للجعد بن ذكوان: (شهدت) (٢) شريحا يقول: (أجيز) (٣) شهادة (٤) الشاهد (على الشاهد) (٥) (قال: نعمُ إذا كان عدلا) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جعد بن ذکوان سے دریافت کیا کہ آپ اس وقت حضرت شریح کے پاس حاضر تھے جب انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ میں گواہ کی گواہی کو نافذ قرار دیتا ہوں ؟ فرمایا ہاں جب کہ وہ عادل ہو۔
حدیث نمبر: 24594
٢٤٥٩٤ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن الحسن عن عبد الأعلى عن شريح: أنه كان يجيز شهادة الشاهد على الشاهد) (١) إذا (كان) (٢) شهد عليهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح گواہ پر گواہی کو نافذ فرماتے تھے جب ان کے پاس گواہی دی جاتی۔
حدیث نمبر: 24595
٢٤٥٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) إسرائيل عن جابر عن عامر عن شريح أنه كان (لا) (٢) يجيز شهادة الشاهد (على الشاهد) (٣) (ما دام حيا) (٤) ولو كان (باليمن) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح کسی گواہ کے خلاف دوسرے کی گواہی جائز نہیں سمجھتے تھیں جب تک وہ گواہ زندہ ہوں اگرچہ وہ یمن میں ہی ہو۔
حدیث نمبر: 24596
٢٤٥٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل (١) الأزرق عن الشعبي قال: كان يقول: لا تجوز شهادة الشاهد على الشاهد حتى (يكونا) (٢) اثنين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ گواہ پر گواہی قبول نہیں جب تک کہ وہ دو نہ ہوں۔