حدیث نمبر: 24569
٢٤٥٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن حنش عن علي أنه استحلف (عبيد اللَّه) (١) بن الحر مع (بينته) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن حرّ سے گواہ کے ساتھ قسم بھی طلب کی۔
حدیث نمبر: 24570
٢٤٥٧٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حسن بن صالح عن ابن أبي ليلى عن على أنه استحلف عبيد اللَّه ابن الحر مع بينته] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 24571
٢٤٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن (المغيرة) (١) عن سعيد بن أشوع عن شريح قال: قبح اللَّه بينتك إن لم تحلف على حقك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر تم اپنے حق پر قسم نہ اٹھاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گواہی سے ناراض ہوگا، (اللہ کو ناراض کرے گا) ۔
حدیث نمبر: 24572
٢٤٥٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مالك بن مغول قال: قلت للشعبي: (١) أستحلف الرجل مع بينته؟ قال: نعم!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا میں آدمی سے قسم لے سکتا ہوں جب اس کے پاس ایک گواہ موجود ہو۔ فرمایا : جی ہاں !۔
حدیث نمبر: 24573
٢٤٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي عن شريح أنه كان يستحلف مع (البينة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ گواہ کے ساتھ قسم بھی لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 24574
٢٤٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن محمد قال: أقام رجل على رجل بينته، فقال خصمه: يمينه أحب إليَّ من شهوده، (فاستحلفه) (١) (رجل) (٢) فنكل فقال شريح: بئس ما (أثنيت) (٣) على شهودك، (ورد) (٤) شهادتهم.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے پر گواہ قائم کیے اس کے خصم نے کہا : اس کی قسم مجھے اس کی گواہی سے زیادہ پسند ہے۔ پھر اس سے قسم طلب کی تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت شریح نے فرمایا : تو نے جو اپنی گواہی کی تعریف کی ہے وہ بہت بُری ہے، اور ان کی گواہی رد ہے، حضرت عبد اللہ بن عتبہ نے فرمایا : جس حق پر تو قسم نہیں اٹھائے گا میں وہ حق تجھے نہیں دوں گا۔
حدیث نمبر: 24575
٢٤٥٧٥ - وقال عبد اللَّه بن (عتبة) (١): لا أعطيك حقا لا تحلف عليه.