حدیث نمبر: 24527
٢٤٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن عمارة بن عمير قال: شهد رجلان عند شريح لرجل على شيء -قال الأعمش: أراه قال: على بغل- فقالا: (نشهد أن) (١) هذا اشتراه من هذا، قال أحد الشاهدين: (و) (٢): أشهد أنه فاجر، فقال شريح: وما يدريك أنه فاجر؟ قم، لا شهادة لك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارۃ سے مروی ہے کہ حضرت شریح کے قاضی شریح کے پاس دو آدمیوں نے کسی شخص کے بارے میں کسی معاملے میں گواہی دی۔ اعمش فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ گواہی گدھے کے بارے میں تھی۔ گواہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے یہ گدھا فلاں سے خریدا ہے۔ پھر ان میں سیایک گواہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا کہ یہ فاجر شخص ہے۔ شریح نے فرمایا کہ تجھے کیسے پتہ ہے کہ یہ فاجر ہے کھڑا ہوجا تیری گواہی قبول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24528
٢٤٥٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (حسن) (١) بن صالح عن الجعد بن ذكوان قال: تقدم رجل إلى شريح، قال: فدعا بشاهد له فقال: (أين) (٢) ربيعة (الكويفر) (٣) فجاء فقال شريح: أقررت (بكويفر) (٤)، فرد شهادته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعد بن ذکوان سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت شریح کے پاس حاضر ہوا ، اور حضرت شریح نے اس کے گواہ کو بلایا، اس نے کہا چھوٹا کافر ربیعہ کہاں ہے ؟ حضرت شریح نے دریافت فرمایا کہ کیا تو کو یفر (چھوٹے کافر) کے ساتھ اس کو پختہ کرتا ہے، پھر اس کی گواہی کو رد فرما دیا۔
حدیث نمبر: 24529
٢٤٥٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان: لو شهد رجلان على رجل أنه طلق امرأته ثم رجعا عن شهادتهما، قال: الطلاق باق، إن لم يكن ⦗٥٣١⦘ (دخل) (١) بها (رجع) (٢) الزوج (عليهما) (٣) بنصف الصداق، وإن كان قد دخل بها فلا شيء عليهما -يعني من الصداق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان سے مروی ہے کہ اگر دو شخص کسی شخص کے خلاف اس بات کی گواہی دیں کہ اس نے بیوی کو طلاق دی ہے، پھر ان دونوں نے اپنی گواہی سے رجوع کردیا، فرمایا : اگر تو زوج نے دخول نہیں کیا تھا تو طلاق قائم رہے گی اور زوج ان گواہوں سے نصف مہر کا رجوع کرے گا اور اگر زوج دخول کرچکا تھا تو پھر گواہوں پر کوئی چیز ادا کرنا لازم نہ ہوگی۔