کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قاضی کے لئے فیصلہ میں کس چیز سے آغاز اور ابتداء کرنا بہتر ہے
حدیث نمبر: 24488
٢٤٤٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن (أبي) (١) عون عن الحارث بن (عمرو) (٢) (الهذلي) (٣) عن رجال من أهل حمص (من) (٤) أصحاب معاذ (عن) (٥) معاذ أن النبي ﷺ لما بعثه قال (له) (٦): "كيف تقضي؟ " قال: أقضي بما في كتاب اللَّه، قال: "فإن جاءك أمر ليس في كتاب اللَّه" قال: أقضي بسنة رسول اللَّه ﷺ (٧)، قال: "فإن لم تكن سنة من رسول اللَّه (٨)؟ " قال: أجتهد رأيي، قال: "الحمد للَّه (الذي) (٩) وفق رسول (رسول) (١٠) اللَّه ﷺ" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو ان سے دریافت فرمایا : کیسے فیصلہ کرو گے ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو کتاب اللہ میں نہ ہو ؟ حضرت معاذ نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی نہ ہو ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ کے قاصد کو اس بات کی توفیق عطاء فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24488
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24488، ترقيم محمد عوامة 23442)
حدیث نمبر: 24489
٢٤٤٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن محمد بن (عبيد اللَّه) (١) الثقفي قال: لما بعث رسول اللَّه ﷺ معاذًا إلى اليمن قال: "يا معاذ! ⦗٥١٧⦘ بم تقضي؟ " قال: أقضي بكتاب اللَّه، قال: "فإن جاءك أمر ليس في كتاب اللَّه"، (قال: أقضي بما قضى (به) (٢) نبيه ﷺ، قال: "فإن جاءك أمر ليس في كتاب اللَّه) (٣) ولم يقض فيه نبيه (ولم) (٤) يقض فيه الصالحون؟ " قال: أؤم الحق جهدي، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "الحمد للَّه الذي جعل (رسول) (٥) رسول اللَّه ﷺ (٦) يقضي بما يرضى به رسول اللَّه ﷺ (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو فرمایا اے معاذ ! کیسے فیصلہ کرو گے ؟ حضرت معاذ نے فرمایا : کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، حضور ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن میں نہ ہو ؟ حضرت معاذ نے فرمایا : میں رسول ﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو قرآن میں بھی نہ ہو، اور اس کے متعلق نبی ﷺ نے بھی فیصلہ نہ کیا ہو اور اس کے متعلق متقدمین نیک لوگوں کا فیصلہ بھی موجود نہ ہو ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنی کوشش اور رائے سے درست فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ کے قاصد کو اس کے مطابق فیصلہ کرنے کی توفیق دی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24489
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن عبيد اللَّه الثقفي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24489، ترقيم محمد عوامة 23443)
حدیث نمبر: 24490
٢٤٤٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي عن شريح أن عمر بن الخطاب ﵁ كتب (إليه) (١): إذا جاءك شيء في كتاب اللَّه فاقض به، ولا يلفتنك عنه الرجال، (فإن) (٢) (جاءك) (٣) أمر ليس في كتاب اللَّه فانظر سنة رسول اللَّه ﷺ فاقض بها، فإن جاءك (ما) (٤) ليس في كتاب اللَّه وليس فيه (سنة) (٥) من رسول اللَّه ﷺ (٦) فانظر ما اجتمع (عليه الناس) (٧) فخذ ⦗٥١٨⦘ (به، فإن جاءك ما ليس في كتاب اللَّه ولم يكن فيه سنة من رسول اللَّه ﷺ ولم يتكلم فيه أحد قبلك فاختر) (٨) أي الأمرين شئت: إن شئت أن تجتهد (برأيك) (٩) وتقدم فتقدم، وإن شئت أن (تتأخر) (١٠) فتأخر، ولا أرى التأخر إلا خيرًا لك (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا، اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو قرآن میں ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرو اور آپ کو لوگ اس سے آزمائش میں مبتلا نہ کردیں، اور اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو قرآن میں نہ ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو دیکھ کر اس کے مطابق فیصلہ کرو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو نہ قرآن میں ہو اور نہ ہی رسول اکرم ﷺ کی سنت میں ہو تو پھر دیکھو جس چیز پر لوگوں کا اجماع ہوا ہے اس فیصلہ کو لے لو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو نہ قرآن میں ہو، نہ ہی سنت رسول اللہ میں ہو اور نہ ہی آپ سے پہلے کسی نے اس کے متعلق فیصلہ کیا ہو تو پھر دو میں سے ایک معاملہ کو اختیار کرنا، اگر اپنی رائے سے اجتہاد کر کے لوگوں سے آگے نکلتا چاہتے ہو تو تم آگے نکل سکتے ہو اور اگر خود کو موخر رکھنا چاہو تو موخر بھی رہ سکتے ہو۔ میں موخر رہے میں ہی تمہاری بھلائی سمجھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24490
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي ٨/ ٢٣١، الدارمي (١٦٧)، وأبو نعيم ٤/ ١٣٦، والبيهقي ١٠/ ١١٠، وأبو نعيم ٤/ ١٣٦، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ٥٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24490، ترقيم محمد عوامة 23444)
حدیث نمبر: 24491
٢٤٤٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) قال: أكثروا على (٢) عبد اللَّه ذات يوم فقال: يا أيها الناس! قد أتى علينا زمان لسنا نقضي، ولسنا هناك، ثم إن اللَّه (قدّر أن بلّغنا) (٣) من الأمر ما ترون، فمن عرض له منكم (قضاء) (٤) بعد اليوم فليقض بما في كتاب اللَّه، فإن جاءه أمر ليس في كتاب اللَّه فليقض بما قضى (به) (٥) نبيه ﷺ، [فإن جاءه أمر ليس في كتاب اللَّه ولم يقض به نبيه (فليقض بما قضى به الصالحون، فإن أتاه أمر ليس في كتاب اللَّه ولم يقض به رسول اللَّه ﷺ) (٦)] (٧) ولم يقض به الصالحون فليجتهد (رأيه) (٨) ولا (يقول) (٩): ⦗٥١٩⦘ إني أرى وإني أخاف، فإن الحلال بين والحرام بين، وبين ذلك أمور (مشتبهات) (١٠) فدع ما يريبك إلى ما لا يريبك (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید سے مروی ہے کہ ایک دن لوگ حضرت عبد اللہ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : اے لوگو ! تحقیق ہم پر ہم پر ایسا وقت گزرا ہے کہ نہ ہم فیصلہ کر یا اور نہ ہی فیصلہ کی جگہ موجود ہوئے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے امارت کا کام ہمارے مقدر میں کردیا۔ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ پس آج کے بعد تم میں سے جس کو عہد ہ قضاء پیش کیا جائے، تو اس کو چاہیئے قرآن کے مطابق فیصلہ کرے، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن میں نہ ہو تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کرے، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن و حدیث میں نہ ہو تو جو صالحین نے فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو قرآن و سنت میں نہ ہو اور صالحین نے بھی اس کے متعلق فیصلہ نہ فرمایا ہو تو پھر اپنی رائے کے مطابق اجتہاد کرو، اور وہ یوں نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں ، میں ڈرتا ہوں، بیشک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، پس شک میں ڈالی والی شے کو چھوڑ دو اور یقینی شے کو اختیار کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24491
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24491، ترقيم محمد عوامة 23445)
حدیث نمبر: 24492
٢٤٤٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن الأعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه مثل حديث (أبي) (١) معاوية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24492
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24492، ترقيم محمد عوامة 23446)
حدیث نمبر: 24493
٢٤٤٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن الأعمش عن القاسم عن أبيه عن عبد اللَّه نحوه إلا أنه زاد فيه "فإن أتاه أمر لا يعرفه (فليقر) (١) ولا يستحي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جس کو وہ نہ جانتا ہو تو اس کو اقرار کرلینا چاہیے (یعنی مان لے کہ میں اس معاملہ کو نہیں جانتا) اور شرم نہیں کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24493
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24493، ترقيم محمد عوامة 23447)
حدیث نمبر: 24494
٢٤٤٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي (يزيد) (٢) قال: كان ابن عباس إذا سئل عن الأمر، وكان في القرآن أخبر به، وإن لم يكن في القرآن فكان عن رسول اللَّه ﷺ، أخبر به، فإن لم يكن فعن أبي بكر وعمر ﵄ (٣)، فإن لم يكن قال: فيه برأيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب کوئی چیز دریافت کی جاتی اور وہ قرآن میں ہوتی اس کے متعلق بتا دیتے ، اور اگر قرآن میں نہ ہوتی اور حدیث رسول میں ہوتی اس کو بتا دیتے ، اور اگر اس میں نہ ہوتی تو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ ما کے اقوال میں دیکھتے اور اگر اس میں بھی نہ ملتی تو پھر اپنی رائے سے اجتہاد کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24494
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24494، ترقيم محمد عوامة 23448)