حدیث نمبر: 24478
٢٤٤٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن عبد الأعلى (ابن) (١) عامر (الثعلبي) (٢) عن بلال بن أبي بردة (بن) (٣) أبي موسى عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من سأل القضاء وكل إلى نفسه، ومن (جبر) (٤) عليه نزل عليه ملك فسدده" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص قضاء کا سوال کرتا ہے اس کو اس کے نفس کے سپرد کردیا جاتا ہے، اور جس کو قضاء پر مجبور کیا جائے، تو اس پر آسمان سے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اس کی راہنمائی کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 24479
٢٤٤٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن الحارث (البصري) (١) قال: كانت بنو إسرائيل إذا استقضي (الرجل) (٢) منهم (أونس) (٣) (له) (٤) من النبوة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے کسی شخص کو قاضی بنایاجاتا تو نبوت سے اس کی مدد کی جاتی۔
حدیث نمبر: 24480
٢٤٤٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا بعض المدنيين (عن) (١) المقبري عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ولي القضاء فكأنما ذبح بغير سكين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کو قاضی بنایا گیا ، گویا کہ اس کو بغیر چھُری کے ذبح کردیا گیا۔
حدیث نمبر: 24481
٢٤٤٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي حصين عن (١) شريح قال: إنما القضاء جمر، فادفع الجمر عنك بعودين -يعني الشاهدين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ قضاء ایک انگارہ ہے، گواہوں کے ذریعہ انگارے کو اپنے آپ سے دور کردو۔
حدیث نمبر: 24482
٢٤٤٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر (عن) (١) (معن ابن) (٢) عبد الرحمن قال: كان شريح يقول للشاهدين: إني لم (أَدْعُكما) (٣) ⦗٥١٤⦘ ولا أنا ما نعكما إن (قمتما) (٤) (٥) وإنما يقضي أنتما وإني متحرز بكما، فتحرزا لأنفسكما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح گواہوں سے فرماتے تھے کہ میں نہ تم دونوں کو بلاتا ہوں (دعوت دیتا ہوں) اور نہ ہی تم دونوں کو کھڑا ہونے سے روکتا ہوں، بیشک فیصلہ تم دونوں کی وجہ سے کیا جائے گا، بیشک میں تو تم دونوں سے بچتا ہوں پس تم دونوں بھی اپنے آپ کو بچاؤ۔
حدیث نمبر: 24483
٢٤٤٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا فرات بن أبي (بحر) (١) قال: سمعت الشعبي وقال له: رجل اقض بيننا بما أراك اللَّه، قال: إني لست برأيي أقضي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے ایک شخص نے عرض کیا کہ جو اللہ نے آپ کو علم دیا ہے اس کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیں، حضرت شعبی نے فرمایا : میں اپنی رائے سے فیصلہ نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 24484
٢٤٤٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي حصين عن (أبي) (١) عبد الرحمن قال: لما أمر داود بالقضاء قطع به، فأوحى اللَّه إليه: (سلهم) (٢) البينة واستحلفهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن سے مروی ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو قضاء کا حکم دیا گیا تو وہ فیصلہ سے کٹ کر رہ گئے (یعنی فیصلہ نہ کرسکے) ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طر ف وحی فرمائی ان لوگوں سے گواہ کا پوچھو اور ان سے قسم اٹھواؤ۔
حدیث نمبر: 24485
٢٤٤٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (سفيان) (١) بن عيينة عن (عمرو) (٢) قال: كتب الحكم بن أيوب في نفر (يستعملهم) (٣) على (القضاء) (٤)، فقال: جابر بن زيد: لو أرسل إلي لهربت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو سے مروی ہے کہ حضرت حکم بن ایوب نے ایک جماعت کو خط لکھ کر ان سے قضاء کے لئے کام طلب فرمایا : حضرت جابر بن زید نے فرمایا : اگر وہ میری طرف خط ارسال کرتے تو میں تو بھاگ جاتا۔
حدیث نمبر: 24486
٢٤٤٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب قال: لما توفي عبد الرحمن ابن أذينة ذكر أبو قلابة للقضاء فهرب حتى أتى الشام، فوافق ذلك (عزل) (١) (صاحبها) (٢) فهرب حتى (٣) أتى اليمامة فلقيته بعد ذلك (فقال) (٤): ما وجدت مَثَل القاضي إلا كمثل رجل سابح في بحر، وكم عسى أن يسبح حتى يغرق.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن اذنیہ کا انتقال ہوا تو حضرت ابو قلابہ سے عہد قضاء کا ذکر کیا گیا، وہ بھاگ کر شام آگئے، شام کا گورنر بھی اتفاق سے اسی عرصہ میں معزول ہوگیا تو وہ وہاں سے بھاگ کر یمامہ آگئے، پھر اس کے بعد میری ان سے ملاقات ہوئی تو فرمایا : میں نے قاضی کو سمندر میں تیرنے والے شخص کی طرح پایا ہے، اور بہت کم ایسا ہوتا ہے ہے کہ تیرنے والا ڈوبے نہیں۔
حدیث نمبر: 24487
٢٤٤٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) (معلى) (٢) بن منصور عن عبد اللَّه بن جعفر عن عثمان بن محمد (عن) (٣) (المقبري) (٤) عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کو لوگوں کا قاضی بنادیا گیا ، اس کو تو بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا۔