حدیث نمبر: 24473
٢٤٤٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن زينب بنت أم سلمة (عن أم سلمة) (١) قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم تختصمون إلي، وإنما أنا بشر، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، وإنما أقضي بينكم على نحو مما أسمع منكم، فمن قضيت له من حق أخيه بشيء فلا يأخذه، فإنما أقطع له قطعة من النار يأتي بها يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنا جھگڑا لے کر میرے پاس آتے ہو، جبکہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں، شاید کہ تم میں سے بعض لوگ بعض پر دلائل میں سبقت لے جائیں، اور میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کروں گا جو تم سے سنوں گا، پس جس کے لئے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ بھی فیصلہ کر دوں وہ اس کو نہ لے، بیشک وہ تو آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔ جو قیامت کے دن اس کے ساتھ آئے گا۔
حدیث نمبر: 24474
٢٤٤٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أسامة بن زيد الليثي عن عبد اللَّه بن رافع مولى (أم) (١) سلمة (عن أم سلمة) (٢) قالت: جاء رجلان من الأنصار إلى النبي ﷺ يختصمان في مواريث بينهما قد درست، ليس (بينهما) (٣) بينة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم تختصمون إلي، وإنما أنا بشر، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، وإنما أقضي بينكم على نحو مما أسمع منكم، فمن قضيت له من حق أخيه بشيء فلا يأخذه، فإنما أقطع له (به) (٤) قطعة من النار، يأتي بها [(إسطاما) (٥) في عنقه، (٦) يوم القيامة"، (قالت) (٧): فبكى الرجلان وقال كل ⦗٥١١⦘ (واحد) (٨) (منهما) (٩): حقي لأخي، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أما إذا فعلتما فاذهبا واقتسما (وتوخيا) (١٠) الحق ثم (استهما ثم) (١١) (ليحلل) (١٢) كل واحد منكما صاحبه" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص میراث کے متعلق جھگڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ان کے پاس گواہ نہ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنا جھگڑا لے کر میرے پاس آتے ہو میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں، شاید کہ تم میں سے بعض بعض پر حجت و دلیل میں غالب آجائے ، میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو سنتا ہوں، پس جس کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ جائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ وصول نہ کرے، بیشک وہ تو آگ کا ایک ٹکڑا ہے ، جو قیامت کے دن اس کی گردن میں آگ کا کڑا ہوگا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے ، اور ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ میرا حق میرے بھائی کے لئے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم یہ کرچکے تو اب تم دونوں جاؤ اور آپس میں تقسیم کرلو، اور حق کا ارادہ کرو اور پھر آپس میں قرعہ ڈال لو، پھر چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا حصہ اپنے بھائی کے لئے حلال کر دے۔
حدیث نمبر: 24475
٢٤٤٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر (العبدي) (١) قال: حدثنا (محمد) (٢) ابن عمرو قال: حدثنا أبو سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما أنا بشر، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، فمن قطعت له من حق أخيه (٣) فإنما أقطع له قطعة من النار" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں ، شاید تم میں سے بعض ، بعض پر حجت و دلیل میں غالب آجائے، پس جو اپنے بھائی کا ایک ٹکڑا بھی لے گا تو وہ قیامت کے دن آگ کا ٹکڑا ہوگا۔
حدیث نمبر: 24476
٢٤٤٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون عن إبراهيم عن شريح أنه كان يقول للخصوم: سيعلم الظالمون حق من (نقصوا) (١)، إن الظالم ⦗٥١٢⦘ ينتظر (٢) العقاب، وإن المظلوم ينتظر النصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح جھگڑنے والوں سے فرما رہے تھے کہ : عنقریب ظالم حق کو جان لیں گے جو انہوں نے کم کیا ہے، بیشک ظالم عقاب اور مظلوم مدد کا منتظر ہے۔
حدیث نمبر: 24477
٢٤٤٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن عوف عن محمد قال: كان شريح مما يقول للخصم: يا عبد اللَّه! واللَّه إني لأقضي لك وإني لأظنك ظالمًا، و (لكن) (١) لست أقضي بالظن، ولكن أقضي بما أحضرني (من بينتك) (٢) وإن قضائي لا يحل لك ما حرم (عليك) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شریح خصم سے فرماتے ، اے عبد اللہ ! خدا کی قسم میں نے تیرے حق میں فیصلہ کیا ہے، اور میرا خیال ہے کہ تو ظالم ہے لیکن میں اپنے ظن اور خیال پر فیصلہ نہیں کرتا، میں تو ان گواہوں پر فیصلہ کرتا ہوں جو تو نے پیش کئے، بیشک میرے فیصلہ کرنے سے جو چیز تیرے لئے حرام ہے وہ حلال نہ ہوگی۔