حدیث نمبر: 24407
٢٤٤٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن معمر عن الزهري أن معاذ بن جبل دار عليه دين، فأخرجه النبي ﷺ من ماله لغرمائه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر دین آگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال میں سے قرض خواہوں کے لئے مال نکالا۔
حدیث نمبر: 24408
٢٤٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حسن بن صالح عن منصور عن شريح قال: كان يبيع ما فوق الإزار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح ازار کے اوپر جو کچھ ہوتا اس کو فروخت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 24409
٢٤٤٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر (عن عمر) (٢) بن (عبد الرحمن) (٣) بن (دلاف) (٤) عن أبيه عن (عم) (٥) أبيه بلال بن الحارث قال: كان رجل (يغالي) (٦) بالرواحل، ويسبق الحاج، حتى أفلس، قال: فخطب عمر بن الخطاب فقال: أما بعد! فإن (الأسيفع أسيفع) (٧) جهينة رضي من أمانته ودينه أن يقال: سبق الحاج، فادّان معرضا، فأصبح (٨) قد دِين به، فمن كان له (عليه) (٩) شيء فليأتنا حتى نقسم ماله بينهم (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بلال بن حارث سے مروی ہے کہ ایک شخص مہنگی سواریاں استعمال کرتا تھا اور حاجیوں سے آگے نکل کر چلا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ غریب ہوگیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا کہ اما بعد بیشک قبیلہ جہینہ کا اسیفع نامی شخص اپنے دیندار اور امانت دار ہونے کے لیے صرف اسی پر خوش تھا کہ اس کو سابق الحاج (یعنی حاجیوں میں سبقت کرنے والا کہا جاتا ہے) کہا جاتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ مقروض بن کر لوٹا ہے اور اب وہ اس وجہ سے غلام بن چکا ہے۔ جس کسی نے بھی اس سے اپنا ادھار لینا ہو وہ ہمارے پاس آئے ہم اس کا مال ان قرض خواہوں میں تقسیم کردیں گے۔
حدیث نمبر: 24410
٢٤٤١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابن أبي ذئب أن عمر بن عبد العزيز كان لا يبيع خادم (الرجل) (١) ولا مسكنه في الدين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز کسی آدمی کے غلام اور اس کے گھر کو قرضے کے بدلے میں نہیں بیچتے تھے۔
حدیث نمبر: 24411
٢٤٤١١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عمرو بن ميمون عن عمر بن عبد العزيز أنه فلّس رجلًا وآجره] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے ایک شخص کو مفلس قرار دیا کرائے کے کام پر لگا دیا۔
حدیث نمبر: 24412
٢٤٤١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن رجل عن ابن سيرين عن شريح أنه كان (إذا) (١) (فلّس) (٢) رجلا (جعل) (٣) ما بقي بين غرمائه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح کے سامنے جب کوئی مفلس ہوتا تو آپ جو باقی بچا ہوتا اس کو قرض خواہوں میں تقسیم فرما دیتے۔