کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کھوٹے سکّوں کو خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 24396
٢٤٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي فروة سمع ابن أبي ليلى قال: قال عمر: من زافت عليه وَرِقُه فلا (يحالف) (١) الناس أنها طيبة، ولكن ليخرج بها إلى السوق فليقل: من يبيعني هذه الدراهم الزيوف بنحو ثوب أو حاجة من حاجته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جس کے پاس کھوٹے سکّے آئیں تو اس کو لوگوں کو یوں کہہ کر قسم نہیں دینی چاہیئے کہ یہ ٹھیک ہیں۔ اس کو چاہیئے کہ ان کو بازار میں لے جائے اور یوں کہے کہ کون مجھے ان کھوٹے سکوں کے بدلے پرانا کپڑا دے گا، یا کوئی حاجت کی چیز مجھے فروخت کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24396
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وثبت سماع ابن أبي ليلى من عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24396، ترقيم محمد عوامة 23356)
حدیث نمبر: 24397
٢٤٣٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن أبيه عن رجل من السمانين قال: قال علي: إذا كان لأحدكم (دراهم) (١) لا (تنفق) (٢) عنه (فليبتع ⦗٤٩٢⦘ بها) (٣) ذهبا (وليبتع) (٤) بالذهب ما ينفق عنه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے پاس کھوٹے سکے ہوں تو ان سے سونا خرید لے ، اور پھر سونے سے وہ کوئی ایسی شے خرید لے کہ جس میں سے خرچ بھی کرسکے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24397
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24397، ترقيم محمد عوامة 23357)
حدیث نمبر: 24398
٢٤٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سلمة بن نبيط عن الضحاك بن (مزاحم) (٢) قال: باع ابن مسعود نفاية بيت المال مرة، ثم لقي عمر فلم يعد لذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بیت المال کے کھوٹے دراہم کو فروخت کردیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو پھر دوبارہ ایسا نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24398
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24398، ترقيم محمد عوامة 23358)
حدیث نمبر: 24399
٢٤٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم أن عمر نهى عبد اللَّه أن يبيع نفاية (بيت) المال (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو بیت المال کے کھوٹے سکّے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24399
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24399، ترقيم محمد عوامة 23359)
حدیث نمبر: 24400
٢٤٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن حوط العبدي قال: جعلني (عبد اللَّه) (١) على بيت المال، فكنت إذا مر بي درهم زيف [(كسرته) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حوطہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیت المال پر مقرر فرمایا : جب بھی میرے پاس کھوٹے سکّے آتے میں ان کو توڑ دیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24400
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24400، ترقيم محمد عوامة 23360)
حدیث نمبر: 24401
٢٤٤٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان (عن) (١) منصور عن ⦗٤٩٣⦘ إبراهيم عن ميمون بن أبي شبيب أنه كان إذا مر به درهم زيف] (٢) كسره، ويقول: لا (يغر) (٣) به (المسلمون) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن ابی شبیب کے پاس جب ایک مرتبہ کھوٹا سکہ آیا تو انہوں نے اس کو توڑ دیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24401
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24401، ترقيم محمد عوامة 23361)
حدیث نمبر: 24402
٢٤٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون قال: قلت لمحمد بن سيرين: أشتري (بالدرهم) (١) الزيف وأبينه، قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ میں کھوٹے سکوں کے بدلے کوئی چیز خریدتا ہوں لیکن بتادیتا ہوں کہ یہ سکے کھوٹے ہیں ؟ فرمایا کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24402
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24402، ترقيم محمد عوامة 23362)
حدیث نمبر: 24403
٢٤٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس قال: رأيت صفوان بن محرز (١) أتى السوق ومعه (درهم) (٢) زيف فقال: من يبيعني (عنبًا) (٣) طيبًا بدرهم خبيث، فاشترى ولم يشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت صفوان بن محرز کو دیکھا کہ آپ بازار میں تشریف لائے اور ان کے پاس کھوٹے سکّے تھے۔ اور فرمایا : کون مجھے پاک انگور خبیث (کھوٹے) درہم کے بدلے دے گا ؟ پھر آپ نے خریدا اور اس پر گواہی قائم نہ فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24403
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24403، ترقيم محمد عوامة 23363)
حدیث نمبر: 24404
٢٤٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الربيع قال: (قلت) (١) للحسن: يا أبا سعيد! (يجتمع) (٢) عندي الدراهم (النحاس) (٣) فأبيعها وأبينها؟ قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے عرض کیا کہ اے ابو سعید میرے پاس پیتل کے کچھ دراہم ہیں۔ میں ان کو بیچتا ہوں اور بتا بھی دیتا ہوں کہ یہ کھوٹے ہیں فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24404
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24404، ترقيم محمد عوامة 23364)
حدیث نمبر: 24405
٢٤٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زياد بن الربيع عن صالح الدهان عن جابر ⦗٤٩٤⦘ ابن زيد أنه كان إذا وقع في يده درهم (زيف) (١) كسره وقال: ما يحل أن (يُغرَ) (٢) به مسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید کے پاس اگر کھوٹے سکّے آتے تو ان کو توڑ دیا کرتے اور فرماتے کہ کسی مسلمان کو دھوکہ دینا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24405
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24405، ترقيم محمد عوامة 23365)
حدیث نمبر: 24406
٢٤٤٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن يعقوب بن قيس أن سعيد ابن جبير كان في يده درهم (١)، فقلت له: (أرينه) (٢)؟ فأعطانيه وقال: لو كان رديئًا لم أعطكه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر کے ہاتھ میں دراہم تھے، میں نے عرض کیا (یعقوب) مجھے دکھلائیے، آپ نے مجھے دے دئیے اور فرمایا اگر کھوٹے ہوتے تو تمہیں نہ دیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24406
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24406، ترقيم محمد عوامة 23366)