حدیث نمبر: 24393
٢٤٣٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن إسحاق بن (عبد اللَّه) (١) -يعني ابن أبي فروة- عن غيلان قال: قلت لعمر بن عبد العزيز: لو غيرت هذه الدراهم، فإنها تقع في يد اليهودي والنصراني والجنب والمجوسي، قال: أردت أن تحتج علينا الأمم، قال: تريد أن تغيّر (توحيد ربنا واسم نبينا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غیلان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے عرض کیا کہ اگر ان دراہم کو تبدیل کردیا جائے تو بہتر ہے، کیونکہ یہ یہودی ، عیسائی، ناپاک شخص اور مجوسی کے ہاتھوں میں جاتا ہے ان کے ہاتھ لگتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا آپ چاہتے ہو کہ دوسرے مذہب والے تم پر اعتراض کریں ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ رب کی توحید اور اپنے نبی ﷺ کا نام تبدیل کردیں ؟
حدیث نمبر: 24394
٢٤٣٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) عن (محمد) (٢) بن (فضاء) (٣) (عن) (٤) أبيه (عن علقمة بن عبد اللَّه عن أبيه) (٥) قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن كسر ⦗٤٩١⦘ [(سكة) (٦) المسلمين الجائزة بينهم إلا من بأس (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے سکہ (دراہم) کو فاسد کرنے سے منع فرمایا جو ان کے درمیان رائج ہے مگر یہ کہ مسلمانوں کی کوئی حاجت یا مصلحت ہو تو اور بات ہے۔
حدیث نمبر: 24395
٢٤٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن جريج عن عطاء قال: أثم الناس في (ضربهم) (١) -] (٢) الدراهم البيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ لوگ سفید درہم کو توڑ کر (فاسد کر کے) گنہگار ہوئے۔