حدیث نمبر: 24384
٢٤٣٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة ووكيع عن إسماعيل عن عامر قال: أُتي عَليٌ في بعض الأمر، (و) (١) قال وكيع: في (شيء) (٢)، فقال: إنه (لجور) (٣)، ولولا أنه صلح (لرددته) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی معاملہ میں پیش کیا گیا، حضرت وکیع نے فرمایا کسی چیز کے متعلق ، فرمایا یہ ظلم ہے اگر یہ صلح نہ ہوتی تو میں اس کو رد کردیتا۔
حدیث نمبر: 24385
٢٤٣٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن إسماعيل عن الشعبي عن شريح قال: أيما امرأة صولحت (١) (على) (٢) ثمنها، ولم يبين لها ما ترك زوجها، فتلك الريبةكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جو عورت بھی ثمن پر صلح کرے اور اس کو بیان نہ کیا جائے کہ اس کے خاوند نے کیا چھوڑا ہے یہ سرا سر دھوکا ہے۔
حدیث نمبر: 24386
٢٤٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد قال: ما شهدت شريحا أمر يصلح إلا مرة، وذلك أن رجلًا أسود استودع امرأة ثمانين درهمًا فحولت متاعها، فضاعت الدراهم، فخاصمها إلى شريح فقال: أتتهمها، قال: لا، قال: إن شئت أخذت خمسين.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح نے کو میں نے صرف ایک مرتبہ صلح کا فیصلہ کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ یوں ہوا کہ ایک شخص نے خاتون کے پاس اسّی درہم امانت رکھوائے، بعد میں خاتون نے اپنے سامان کو الٹ پلٹ کیا۔ خاتون سے وہ دراھم ضائع ہوگئے۔ پس وہ جھگڑا حضرت شریح کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت شریح نے فرمایا کہ پھر کیا تو اس پر تہمت لگانا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں، آپ نے فرمایا : اگر تو چاہے تو پچاس درہم وصول کرلے۔
حدیث نمبر: 24387
٢٤٣٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي حصين عن عبد اللَّه بن عتبة أنه ربما أتاه القوم يختصمون إليه في الشيء فيقول: اذهبوا فاصطلحوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عتبہ کے پاس بعض اوقات لوگ جھگڑا لے کر آتے تو آپ فرماتے کہ جاؤ چلے جاؤ اور صلح کرلو۔
حدیث نمبر: 24388
٢٤٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن أشعث [عن الشعبي] (١) عن ابن سيرين أنه قال: ربما أتى شريحًا القوم يختصمون إليه فيقول: اذهبوا إلى عبيدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ بعض اوقات حضرت شریح کے پاس لوگ جھگڑا لے کر حاضر ہوتے تو آپ فرماتے عبیدہ کے پاس چلے جاؤ۔
حدیث نمبر: 24389
٢٤٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن أزهر العطار عن محارب بن دثار قال: (قال) (١) عمر: رددوا الخصوم حتى يصطلحوا، فإن فصل القضاء يورث (٢) القوم الضغائن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جھگڑنے والوں کو واپس کردو تاکہ وہ صلح کرلیں، بیشک فیصلہ کرنے سے جھگڑنے والوں میں کینہ پیدا ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 24390
٢٤٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن حازم عن ابن سيرين قال: بعث عمر بن الخطاب قاضيا، فاختصم إليه رجلان في دينار، قال: فأعطاه أحدهما، وأعطى الآخر دينارًا من عنده، فبلغ ذلك عمر فبعث إليه فعزله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک قاضی بھیجا اس کے پاس دو شخص جھگڑا لے کر آئے، اس نے اُ ن میں سے ایک کو عطا کردیا اور دوسرے کو اپنی طرف سے ایک دینار عطاء کردیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے اس کو معزول کردیا۔