کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جس کے ہاتھ حد میں کٹے ہوں اُس کی گواہی کا بیان
حدیث نمبر: 24381
٢٤٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن قتادة وحميد عن الحسن أن رجلًا من قريش سرق بعيرًا، فقطع النبي ﷺ يده، قال: وكانت تجوز شهادته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ قریش کے ایک شخص نے چوری کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کٹوا دئیے، اور اس کی گواہی قبول کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24381
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٣٩٥)، والبيهقي (١٠/ ١٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24381، ترقيم محمد عوامة 23341)
حدیث نمبر: 24382
٢٤٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أنت عن الشعبي قال: شهد عند شريح أقطع، فأثنى عليه خيرًا، (١) فقال: شريح نجيز شهادة (صاحب كل) (٢) حد إذا كان يوم يشهد عدلا إلا القاذف، فإن توبته فيما بينه وبين اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح کی خدمت میں ایک ہاتھ کٹے نے گواہی دی، اس شخص کی اچھائی اور نیکی کی تعریف کی گئی، حضرت شریح نے فرمایا : ہم ہر اس شخص کی گواہی قبول کرتے ہیں جس پر حَد لگی ہو جبکہ وہ گواہی کے دن عادل ہو، سوائے محدود فی القذف کے کیونکہ اس کی توبہ اللہ اور اس کے درمیان ایک معاملہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24382
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24382، ترقيم محمد عوامة 23342)
حدیث نمبر: 24383
٢٤٣٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حصين عن شريح أنه أجاز شهادة أقطع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح بھی مقطوع الید کی گواہی کو قبول فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24383
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24383، ترقيم محمد عوامة 23343)