کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جس کی گواہی قبول نہیں ہے
حدیث نمبر: 24347
٢٤٣٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن محمد بن زيد عن طلحة بن عبد اللَّه بن عوف قال: أمر النبي ﷺ (١) مناديًا فنادى حتى انتهى إلى الثنية: ألا! لا تجوز شهادة خصم ولا ظنين وأن اليمين على المدعى عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن عبد اللہ بن عوف سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو ندا لگانے کا حکم فرمایا۔ اس نے لوگوں کو آواز دی یہاں تک کہ ثنیۃ کی طرف پہنچے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگو ! آگاہ رہو مدمقابل اور مشکوک کی گواہی قابل قبول نہیں، اور بیشک قسم تو مدعیٰ علیہ پر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24347
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ طلحة تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٣٩٦)، ومسدد كما في المطالب العالية (٢١٩٥)، وأبو عبيد في الغريب ٢/ ١٥٥، والبيهقي ١٠/ ٢٠١، وأخرجه عبد الرزاق (١٥٣٦٥) من حديث أبي هريرة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24347، ترقيم محمد عوامة 23310)
حدیث نمبر: 24348
٢٤٣٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي عن شريح قال: (أرد) (١) شهادة (ستة) (٢): الخصم، (و) (٣) المريب، ودافع المغرم، والشريك لشريكه، والأجير لمن استأجره، والعبد لسيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ میں چھ آدمیوں کی گواہی کو رد کرتا ہوں۔ خصم کی، شکّی کی، اور ایسے آدمی کی کہ جس نے تاوان دینا ہو۔ شریک کی شریک کے حق میں، اجیر کی مستاجر کے حق میں اور غلام کی آقا کے حق میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24348
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24348، ترقيم محمد عوامة 23311)
حدیث نمبر: 24349
٢٤٣٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: لا يجوز في الطلاق (شهادة) (١) ظنين ولا متهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ طلاق کے معاملہ میں شکّی (ناقابل اعتبار) اور متہم بالکذب کی گواہی جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24349
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24349، ترقيم محمد عوامة 23312)
حدیث نمبر: 24350
٢٤٣٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين قال: قال شريح: لا أجيز شهادة: خصم، ولا مريب، ولا دافع مغرم، ولا الشريك لشريكه، ولا الأجير لمن استأجره، ولا العبد لسيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ میں چھ آدمیوں کی گواہی کو رد کرتا ہوں۔ خصم کی، شکّی کی، ایسے شخص کی کہ جس نے تاوان دینا ہو۔ شریک کی شریک کے حق میں، اجیر کی مستاجر کے حق میں اور غلام کی آقا کے حق میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24350
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24350، ترقيم محمد عوامة 23313)