حدیث نمبر: 24329
٢٤٣٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة (عن أشعث) (١) عن عامر عن شريح قال: الكفيل غارم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفیل ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 24330
٢٤٣٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن عون عن محمد قال: (قلت) (١) (لشريح) (٢): كفيلي حيل دونه، ومالي اقتضي مسمى، و (مال) (٣) غريمي اقتسم دوني، فقال: إن كان (الكفيل) (٤) (مخيرا) (٥) فالكفيل غارم، وإن كان مالك اقتضي مسمى، فأنت أحق به، وإن كان مال غريمك اقتسم دونك فهو بالحصص.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح سے عرض کیا : میرے کفیل نے میرے علاوہ حیلہ کیا، اور میرے مال کا فیصلہ کیا گیا اور میرے غریم کا مال میرے علاوہ تقسیم کردیا گیا۔ آپ نے فرمایا : اگر کفیل مخیر تھا تو وہ ضامن ہے ، اور تو اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر تیرے غریم کا مال تیرے علاوہ تقسیم کردیا گیا تو وہ حصوں کے ساتھ ہوگا۔
حدیث نمبر: 24331
٢٤٣٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم قال: سمعت أبا أمامة (الباهلي) (١) (يقول) (٢): سمعت رسول اللَّه ﷺ في خطبته (في) (٣) عام حجة الوداع يقول: الدين مقضي والزعيم غارم -يعني الكفيل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرماتے ہوئے سنا کہ قرضہ کو بہر صورت اتارنا ضروری ہے اور کفیل ضامن ہے۔ (قرضے کی ادائیگی کرنے والا ہے۔ )