حدیث نمبر: 24262
٢٤٢٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن الشعبي في القوم يكونون شركاء في الدار، فاشترى بعضهم من بعض، قال: ليس للآخرين شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک گھر میں کئی لوگ شریک تھے، ان میں سے بعض نے بعض سے وہ گھر خرید لیا، تو دوسرے شریکوں کو شفعہ کا حق حاصل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24263
٢٤٢٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص (عن) (١) (عمرو) (٢) عن الحسن مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 24264
٢٤٢٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك (بن) (١) مخلد عن ابن (جريج) (٢) قال: قلت لعطاء: ابتعت أنا ورجل دارا، ولرجل سدس وللآخر نصف فباع -يعني صاحبي-، آخذه أنا وهم (جميعًا) (٣) (أو) (٤) آخذه دونهم، قال: (لا) (٥)! (بل) (٦) تأخذه دونهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ میں نے اور ایک دوسرے شخص نے مل کر ایک مکان خریدا، میرے ساتھی کا اس میں چھٹا حصہ ہے۔ آدھا مکان دوسرے شخص کا ہے۔ میرے ساتھی نے اپنا حصہ بیچ دیا ہے۔ کیا ہم سب اس رقم میں سے حصہ لیں گے یا صرف میں لوں گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ صرف تم اس رقم میں سے حصہ لو گے۔
حدیث نمبر: 24265
٢٤٢٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج قال: أخبرني ابن أبي حسين (عن) (١) طاوس (قال) (٢): هم فيه سواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ وہ سب شریک اس میں برابر ہیں۔