حدیث نمبر: 24243
٢٤٢٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن التيمي عن أبي عثمان أن ابن مسعود كان يكره إذا أقرض (دراهم) (١) أن (يأخذ) (٢) خيرًا منها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص دراہم کسی کو قرض دے کر اس سے بہتر وصول کرے۔
حدیث نمبر: 24244
٢٤٢٤٤ - [حدثنا أبو بكر قال: قال حدثنا ابن أبي زائدة عن حجاج عن عطاء قال: كان ابن عمر يستقرض فإذا خرج عطاؤه أعطاه خيرًا منه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دراہم قرض لیتے تھے۔ پھر جب انکا وظیفہ (تنخواہ) نکلتی تو اس سے اچھے درہم بدلہ میں ادا کرتے۔
حدیث نمبر: 24245
٢٤٢٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا قَطَري بن عبد اللَّه (أبو مري) (١) عن أشعث الحداني قال: سألت الحسن فقلت: يا أبا سعيد! تجيء الكبار ولي (جارات) (٢)، و (لهن) (٣) عطاء، (فيقترضن) (٤) مني، و (نيتي) (٥) فضل ⦗٤٥٦⦘ (دراهم) (٦) العطاء على دراهمي، قال: لا بأس (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت أشعث فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے دریافت کیا کہ اے ابو سعید ! میری کچھ پڑوسیاں ہیں۔ ان کے کچھ وظائف مقرر ہیں۔ وہ مجھ سے قرض لیتی ہیں اور دیتے وقت میری نیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے درہم بوقت واپسی میری ان دراہم سے اچھے ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24246
٢٤٢٤٦ - حدثنا أبو بكر قال:. حدثنا ابن أبي زائدة عن زكريا قال: قلت لعامر: الرجل يستقرض، فإذا خرج (عطاؤه أعطاني) (١) خيرًا منها، قال: لا بأس ما لم يشترط أو (يعطيه) (٢) التماسَ (ذلك) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے فرمایا : کوئی شخص مجھ سے قرض لیتا ہے اور جب اس کو ہدیہ ملتا ہے تو وہ اس سے بہتر مجھے عطاء کرتا ہے، آپ نے فرمایا : اگر تو نے اس شرط کے ساتھ اس کو نہ دینے ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24247
٢٤٢٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن جويبر عن الضحاك قال: إذا أقرضت شيئًا (فقضيت) (١) (أفضل) (٢) منه، فلا بأس إن لم يكن شرط عند القرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جب تم کچھ قرض لو تو اس سے بہتر ادا کرو، اور اگر قرض کے وقت اس کی شرط نہ لگائی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24248
٢٤٢٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم وحماد، قال: سألتهما (عن) (١) الرجل يقرض (الرجل) (٢) (الدراهم) (٣) فيأخذ خيرًا من الذي أعطى، (فقالا) (٤): إن لم يكن نوى فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص کسی کو قرض دیتا ہے پھر جو دئیے ہیں ان سے اچھے وصول کرتا ہے ؟ فرمایا اگر اس کی شرط نہ لگائی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24249
٢٤٢٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا رواد بن (جراح) (١) عن الأوزاعي في رجل أقرض رجلًا عشرة دراهم (فأتى) (٢) بعشرة ودانقين، قال: لا تقبل، قلت له: إنه قد طابت نفسه (بها) (٣)، قال: وهل يكون الربا إلا عن طيب نفس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الاوزاعی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو دس درہم قرض دیا وہ شخص قرض واپس کرتے وقت دس درہم اور دو دانق (درہم کا چھٹا حصّہ) لے آیا، فرمایا : اس کو قبول مت کرو، میں نے عرض کیا وہ خوش دلی سے دے رہا ہے، فرمایا کیا سود خوش دلی سے نہ ہوتا تھا ؟ !۔
حدیث نمبر: 24250
٢٤٢٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن خالد بن دينار عن عامر في الرجل يقرض الرجل القرض وينوي أن يقضى أجود منه، قال: (ذلك) (١) أخبث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو قرض دے اور قرض دیتے وقت یہ نیت ہو کہ اس سے بہتر مجھے ادا کیا جائے گا ۔ فرمایا یہ بُری نیت ہے۔
حدیث نمبر: 24251
٢٤٢٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: استقرض رجل من ابن مسعود (دراهم) (١) فقضاه، فقال (له) (٢) الرجل: (إني) (٣) تجاوزت لك من (جيد) (٤) عطائي، (فكره) (٥) ذلك ابن مسعود وقال: مثل دراهمي (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے قرض مانگا تو آپ نے عطاء فرما دیا، اس شخص نے عرض کیا : میں نے آپ کے لئے اپنی بخشش میں سے عمدہ اور بہتر دراہم بڑھائے ہیں، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کو ناپسند فرمایا اور فرمایا میرے درہم کے مثل واپس کرو۔
حدیث نمبر: 24252
٢٤٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام (الدستوائي) (١) عن القاسم بن أبي بزة عن عطاء بن يعقوب قال: (استسلف) (٢) مني ابن عمر ألف ⦗٤٥٨⦘ درهم فقضاني دراهم أجود من دراهمي، فقال: ما كان فيها من فضل فهو نائل مني إليك، أتقبله؟ قلت: نعم! (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یعقوب فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ہزار درہم قرض لیا، پھر مجھے میرے دراہم بہتر واپس کئے، اور فرمایا : اس میں جو زائد ہیں وہ میری طرف سے آپ کے لئے عطیہ ہیں، کیا آپ قبول کریں گے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں !
حدیث نمبر: 24253
٢٤٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (شعبة) (١) قال: سألت الحكم وحمادا عن الرجل يقرض الرجل الدراهم فيعطى أجود منها، (قالا) (٢): لا بأس ما لم تكن نيته على ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص دوسرے کو قرض میں دراہم دیتا ہے، وہ اس کو اس سے بہتر اور عمدہ واپس کرتا ہے ؟ فرمایا اگر اس کی نیت نہ ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24254
٢٤٢٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة عن عامر قال: (سألته) (١) (عن) (٢) الرجل يقرض الرجل الدراهم فيعطى أجود منها، قال: لا بأس ما لم (يتعمد أو) (٣) يشترط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بھی یہی فرماتے ہیں کہ اگر اس کی نیت نہ ہو اور اس نے شرط نہ لگائی ہو تو کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 24255
٢٤٢٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: سمعت شيخًا يقال له: المغيرة قال: قلت لابن عمر: إني أسلف جيراني (إلى) (١) العطاء فيقضوني دراهم أجود من دراهمي، قال: لا بأس ما لم تشترط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ میں نے اپنے پڑوسی کو قرض دیا ہے اس نے میرے درہم سے عمدہ درہم کے ساتھ قرض کی ادائیگی کی ؟ آپ نے فرمایا : اگر اس کی شرط نہ لگائی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔