کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: کوئی گھر فروخت ہو اور اُس کے دو پڑوسی ہوں
❮
❯
٢٤٢٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ليث عن الشعبي قال: ⦗٤٥٤⦘ (في) (١) (جاري) (٢) الدار إذا (كانا) (٣) في الجوار سواء فأيهما سبق فهو أحق بالشفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی گھر کے دو پڑوسیوں کے متعلق فرماتے ہیں ۔ اگر دونوں پڑوسی برابر ہوں، تو جو ان میں سے پہل کرے گا (یعنی جو مطالبہ کرنے اور مقدمہ لے جانے میں سبقت کرلے گا) اس کو حق شفعہ حاصل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24237
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24237، ترقيم محمد عوامة 23203)
٢٤٢٣٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يونس بن أبي إسحاق قال: سمعت الشعبي يقول: (من) (١) بيعت (شفعته) (٢) وهو شاهد لا ينكر، فلا شفعة له] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کے سامنے اس کی شفعہ والی زمین بیچی جائے اور وہ کوئی اعتراض نہ کرے تو اب اس کو حق شفعہ حاصل نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24238
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24238، ترقيم محمد عوامة 23204)
٢٤٢٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر والقاسم في رجل بيعت داره وهو ساكت لا ينكر، قالا: يلزمه، وهو جائز عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت قاسم اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کا گھر فروخت ہو اور وہ خاموش رہے نکیر نہ کرے ، فرماتے ہیں اس پر لازم ہوجائے گا اور وہ اس پر جائز ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24239
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24239، ترقيم محمد عوامة 23205)
٢٤٢٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (إسرائيل) (١) عن جابر عن عامر والقاسم بن عبد الرحمن أنهما كانا يقولان للمبتاع: أقم البينة أنها بيعت وهو شاهد لا ينكر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت قاسم بن عبد الرحمن خریدار سے فرماتے تھے کہ تو اس بات کا گواہ قائم کر کہ اس کو گھر کو فروخت کیا گیا یہ گواہ تھا (دیکھ رہا تھا) لیکن اس پر نکیر نہ کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24240
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24240، ترقيم محمد عوامة 23206)