کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اپنے بیٹے کے مال میں سے بغیر اجازت نہیں استعمال کر سکتا
حدیث نمبر: 24187
٢٤١٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: على الولد أن يبر والده، وكل إنسان أحق بالذي له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ والد کے لئے اپنی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرنا ضروری ہے، اور ہر انسان اس چیز کا زیادہ حق دار ہے جس کا وہ مالک ہے۔
حدیث نمبر: 24188
٢٤١٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة (عن ابن عون) (١) قال: (قال) (٢) رجل للقاسم بن محمد: (أيعتصر) (٣) الرجل من مال ولده ما شاء، فقال: ما أدري ما (هذا) (٤)؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت قاسم بن محمد سے روایت کیا کہ کیا کوئی شخص (والد) اپنے بیٹے کے مال میں سے جو چاہے بغیر اجازت استعمال کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نہیں جانتا یہ کیا ہے ؟
حدیث نمبر: 24189
٢٤١٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: خذ من مال ولدك ما أعطيته، ولا تأخذ منه ما لم تعطه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اپنے بیٹے کے مال سے وہ لے جو وہ دے اور جو وہ نہ دے وہ مت لے۔
حدیث نمبر: 24190
٢٤١٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن جرير بن حازم عن يونس بن يزيد عن الزهري عن سالم أن حمزة بن (عبد اللَّه) (١) بن عمر نحر جزورا فجاء سائل فسأل ابن عمر، فقال عبد اللَّه: ما هي لي؟ فقال (٢) حمزة: (يا) (٣) أبتاه! فأنت في حل، فأطعم منها ما شئت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اونٹ ذبح فرمایا : ایک سائل نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ میرا مال نہیں ہے۔ حضرت حمزہ نے کہا کہ ابا جان یہ آپ کے لیے بھی حلال ہے۔ آپ اس م یں سے جسے چاہیں کھلا سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 24191
٢٤١٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن معمر عن الزهري قال: ينفق الرجل من (مال) (٢) ولده إذا كان محتاجًا (بقدر) (٣) ما أنفق عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر والد محتاج ہو تو وہ اتنا ہی خرچ کرے گا جتنا اس نے اس پر خرچ کیا تھا۔
حدیث نمبر: 24192
٢٤١٩٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن عبد الأعلى عن محمد بن الحنفية عن علي قال: الرجل أحق بمال ولده إذا كان صغيرًا، فإذا كبر (واحتاز) (١) ماله كان أحق به] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر بیٹا چھوٹا ہو تو والد اس کے مال کا زیادہ حق دار ہے۔ اور جب بیٹا بڑا ہوجائے اور اپنا مال علیحدہ کرلے تو پھر بیٹا زیادہ حق دار ہے۔