حدیث نمبر: 24171
٢٤١٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم (عن) (١) الأسود عن عائشة (قالت) (٢): قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أطيب ما أكل الرجل من كسبه، وولده من كسبه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے پاکیزہ مال جو آدمی کھاتا ہے وہ ہے جو وہ اپنی کمائی سے کھائے، اور اس کا بیٹا بھی اس کی کمائی میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 24172
٢٤١٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن هشام بن عروة عن محمد بن المنكدر أن رجلًا خاصم أباه في (مال) (١) (كان) (٢) أصابه إلى النبي ﷺ فقال: "أنت ومالك لأبيك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن المنکدر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد سے جھگڑا کرتے ہوئے آیا، جس نے اس کا مال لیا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اور تیرا مال دونوں تیرے والد کے ہیں۔
حدیث نمبر: 24173
٢٤١٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (خلف) (١) ابن خليفة عن محارب بن دثار ⦗٤٣٧⦘ قال: قال: رسول اللَّه ﷺ: "الولد من كسب الوالد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیٹا والد کی کمائی میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 24174
٢٤١٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع وغندر عن شعبة عن الحكم عن (عمارة) (١) بن عمير (التيمي) (٢) عن (أمه) (٣) عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: ["ولد الرجل من (كسبه) (٤) من أطيب كسبه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیٹا والد کی پاکیزہ کمائی میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 24175
٢٤١٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن عمته عن عائشة عن النبي ﷺ] (١) بنحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 24176
٢٤١٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن إبراهيم بن ⦗٤٣٨⦘ عبد الأعلى عن سويد بن (غفلة) (١) عن عائشة (قالت) (٢): (يأكل) (٣) الرجل من مال ولده ما شاء، ولا يأكل الولد من مال والده إلا بإذنه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ والد اپنی اولاد کے مال میں سے جو چاہے استعمال کرسکتا ہے ، لیکن اولاد (لڑکا) والد کے مال میں سے بغیر اجازت استعمال نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 24177
٢٤١٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا داود (بن) (١) عبد اللَّه قال: سمعت الشعبي يقول: قالت عائشة: ولد الرجل من كسبه، يأكل من ماله ما شاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ آدمی کا بیٹا اس کی کمائی میں سے ہے، وہ اس کے مال میں سے جو چاہے استعمال کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 24178
٢٤١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي (ليلى) (١) عن الشعبي قال: جاء رجل من الأنصار إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه! إن أبي غصبني مالي، (قال) (٢): "أنت ومالك لأبيك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے والد نے میرا مال غصب کرلیا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے والد کے ہیں۔
حدیث نمبر: 24179
٢٤١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن داود (١) بن أبي هند عن سعيد بن المسيب قال: يأكل الوالد من مال ولده ما شاء، ولا يأكل الولد من مال والده إلا بطيب نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب ارشاد فرماتے ہیں کہ والد اپنی اولاد کے مال میں سے جو چاہے استعمال کرسکتا ہے ، لیکن لڑکا اپنے والد کے مال میں سے بغیر اجازت اور طیب نفس کے استعمال نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 24180
٢٤١٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة (و) (١) وكيع عن إسماعيل عن الشعبي مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 24181
٢٤١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث (عن) (١) (أبي) (٢) الزبير (عن جابر) (٣) مثله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 24182
٢٤١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن صالح بن حي عن عامر قال: الرجل في حل من مال ولده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے لئے اپنے بیٹے کے مال کو استعمال کرنا حلال اور جائز ہے۔
حدیث نمبر: 24183
٢٤١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا [وكيع قال: حدثنا] (١) هشام بن عروة عن أبيه قال: صنع رجل في (ماله شيئًا) (٢) ولم يستأذن أباه، قال هشام: قال أبي: فسأل النبي ﷺ (٣) (أو أبا بكر أو عمر) (٤) فقال: " (اردده) (٥) عليه فإنما هو (سهم) (٦) من كنانتك" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کا مال استعمال کیا اور اس سے اجازت نہ لی، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو واپس کردو، بیشک وہ تمہاری بہو کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 24184
٢٤١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن ابن جريج قال: كان عطاء لا يرى بأسًا (بأن) (١) يأخذ الرجل من مال ولده ما شاء من غير ضرورة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی اپنے بیٹے کے مال میں سے جو چاہے، بغیر اجازت استعمال کرلے۔
حدیث نمبر: 24185
٢٤١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) إسرائيل عن جابر عن عامر عن مسروق (قال) (٢): أنت من هبة اللَّه لأبيك، (أنت) (٣) ومالك لأبيك، ثم (قرأ) (٤): ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ [الشورى: ٤٩].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ تو اللہ کی طرف سے اپنے والد کے لئے ہبہ ہے، تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ { یَہَبُ لِمَنْ یَشَائُ إنَاثًا وَیَہَبُ لِمَنْ یَشَائُ الذُّکُورَ }۔
حدیث نمبر: 24186
٢٤١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلًا أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه! (إن) (١) أبي (اجتاح) (٢) مالي، فقال: "أنت ومالك لأبيك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے والد نے میرا مال لے لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے والد ہی کے ہیں۔