کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: رُقبی کا بیان
حدیث نمبر: 24108
٢٤١٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (يزيد) (١) بن زياد (بن) (٢) أبي الجعد عن حبيب بن أبي ثابت عن ابن عمر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الرقبى، (و) (٣) قال: "من أرقب رقبى فهي له" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبی سے منع فرمایا اور فرمایا : جس کو رقبی کے طور پر کوئی مکان مل گیا تو وہ اسی کا ہے۔ ( رُقبی کہتے ہیں ایک شخص دوسرے سے کہے کہ میں نے یہ گھر تجھے ہبہ کردیا ہے اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہوگیا تو یہ میری طرف پھر لوٹ جائے گا ، اور اگر میں تجھ سے پہلے فوت ہوگیا تو یہ تمہارا ہوگا۔ )
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24108
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح حبيب بالسماع عند النسائي، وأخرجه أحمد (٤٨٠١)، والنسائي ٦/ ٢٧٤، وعبد الرزاق (١٦٩٢٠)، وابن ماجه (٢٣٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24108، ترقيم محمد عوامة 23082)
حدیث نمبر: 24109
٢٤١٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حنظلة عن طاوس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تحل الرقبى، فمن أرقب رقبى فهي في سبيل الميراث" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رقبی حلا ل نہیں ہے۔ جس کو رقبی میں کو مکان مل جائے تو وہ میراث میں تقسیم ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24109
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ طاوس تابعي، أخرجه النسائي في الكبرى (٦٥٤٥)، وعبد الرزاق (١٦٩١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24109، ترقيم محمد عوامة 23083)
حدیث نمبر: 24110
٢٤١١٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن أبي نجيح عن طاوس ⦗٤٢٢⦘ قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا رقبى، من أرقب رقبى فهي لورثة المرقب"] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رقبّی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جس کو رقبی کے طور پر کوئی مکان مل جائے تو وہ دینے والے کے ورثاء کا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24110
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ طاوس تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24110، ترقيم محمد عوامة 23084)
حدیث نمبر: 24111
٢٤١١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) شعبة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: قال علي: "العمرى والرقبى (سواء) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا عمری اور رقبٰی کا حکم برابر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24111
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24111، ترقيم محمد عوامة 23085)
حدیث نمبر: 24112
٢٤١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن حسان قال: سمعت مجاهدًا يقول: (من أُعمر) (١) عمرى فهي له ولورثته من بعده، لا ترجع إلى الذي أعمرها، والرقبى مثلها، قلت لمجاهد: ما الرقبى؟ قال: قول الرجل: هي (للآخر) (٢) مني ومنك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں جس شخص کو عمری کے طور پر مکان مل جائے تو وہ زندگی میں اس کا ہوگا اور مرنے کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گا۔ ایسا مکان واپس عمری میں دینے والے کو نہیں ملے گا اور رقبی بھی اس کی مثل ہے۔ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ رقبی کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ رقبی کہتے ہیں کہ کوئی آدمی یوں کہے کہ یہ مکان ہم دونوں میں جو زیادہ دیر زندہ رہا اسی کا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24112، ترقيم محمد عوامة 23086)
حدیث نمبر: 24113
٢٤١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن أبي الزبير عن طاوس عن ابن عباس قال: (الرقبى والعمرى) (١) (سواء) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ عمری اور رقبی برابر ہیں۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ عمری، ہبہ، عطیہ اور قرضہ پر جب قبضہ کرلیا جائے وہ نافذ ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24113
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24113، ترقيم محمد عوامة 23087)
حدیث نمبر: 24114
٢٤١١٤ - قال وكيع: العمرى والهبة والعطية و (النحلة) (١) إذا قبضت فهي جائزة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24114
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24114، ترقيم محمد عوامة ---)