کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مکاتبہ باندی فوت ہو جائے اور اُس پر بھی بدل کتابت باقی ہو تو اِس کے بچوں کا حکم …
حدیث نمبر: 24083
٢٤٠٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن ابن جريج قال: أخبرني ابن أبي مليكة أن امرأة كوتبت، فولدت ولدين في مكاتبتها، ثم ماتت، فسئل عن ذلك ⦗٤١٤⦘ عبد اللَّه بن الزبير فقال: إن (أقاما) (١) بكتابة (أمهما) (٢) فذلك (لهما) (٣)، فإذا أديا عتقا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ ایک عورت (لونڈی) سے کتابت کی گئی۔ پھر اس نے حالت کتابت میں دو بچے جنے۔ پھر اس کا انتقال ہوگیا، اس کے متعلق حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اگر اس کی اولاد اپنی والدہ کی کتابت پر قائم رہنا چاہیں تو ان کو اجازت ہے، جب وہ ادا کریں گے تو آزاد ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 24084
٢٤٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن إبراهيم قال: ولد المكاتبة بمنزلتها، يعتقون بعتقها ويرقون برقها، (فإن) (٢) ماتت (سعوا) (٣) فيما بقي من مكاتبتها، فإن أدوا عتقوا، وإن عجزوا (ردوا) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کے بچے اس کے مرتبہ میں ہیں، اس کی آزادی کے ساتھ آزاد ہوجائیں گے، اور اس کی غلامی کے ساتھ غلام رہیں گے، اور اگر ان کی والدہ کا انتقال ہوجائے تو جو بدل کتابت رہ گیا ہے اس کی ادائیگی کی کوشش کریں گے اگر تو وہ ادا کردیا وہ آزاد ہوجائیں گے اور اگر ادا نہ کر پائے تو غلام رہیں گے۔
حدیث نمبر: 24085
٢٤٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه عن علي قال: (ولده بمنزلته) (١) في السعي -يعني (المكاتب) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ مکاتب کی اولاد بھی بدل کتابت کی ادائیگی کی کوشش میں اسی کے مثل ہے۔