کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جانور کو جانور اور نقد دراہم کے بدلے فروخت کرنا
حدیث نمبر: 23992
٢٣٩٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن محمد أنه كان لا يرى بأسا دابة بدابة و (دراهم) (١)، الدابة معجلة والدراهم نسيئة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جانور کو جانور اور دراہم کے بدلے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب کہ جانور نقد اور درہم ادھار ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23992
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23992، ترقيم محمد عوامة 22976)
حدیث نمبر: 23993
٢٣٩٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل (بن) (١) يوسف عن أشعث عن الحسن ومحمد: بقرة ببقرة بينهما (دراهم) (٢)، (الدراهم) (٣) نسيئة، قال محمد: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد سے مروی ہے کہ گائے کو گائے کے بدلے فروخت کیا جائے، اور ان کے درمیان کچھ دراہم ہوں، اور دراہم ادھار ہوں، محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور حسن اس کو ناپسند کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23993
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23993، ترقيم محمد عوامة 22977)
حدیث نمبر: 23994
٢٣٩٩٤ - وكرهه الحسن.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23994، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 23995
٢٣٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بعض المشيخة عن قيس عن العلاء بن المسيب عن حماد عن إبراهيم قال: لا بأس أن يباع البعير بالبعير بينهما (العشرة) (١) (الدراهم) (٢) إذا كان الحيوان معجلا والدراهم (مؤخرة) (٣)، وكرهه إذا كانت الدراهم معجلة والحيوان (مؤخرًا) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اونٹ کو اونٹ کے بدلے میں اس طرح فروخت کیا جائے کہ ان کے درمیان دس دراہم ہوں جبکہ حیوان نقد اور دراہم ادھار ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر دراہم نقد ہوں اور حیوان مؤخر ہوں تو اس کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23995
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23995، ترقيم محمد عوامة 22978)