کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو یا پھر پھل دار درخت ہوں
حدیث نمبر: 23979
٢٣٩٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (سفيان) (١) بن عيينة عن الزهري عن سالم (عن) (٢) أبيه عن النبي ﵇ (٣) قال: "من باع نخلا (بعد) (٤) أن (تؤبر) (٥) فثمرته (للبائع) (٦) إلا أن يشترطه المبتاع، ومن باع عبدا وله مال، فماله للبائع إلا أن يشترطه المبتاع" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کھجور کا درخت اس کے درست ہونے کے بعد فروخت کرے (پھل لگنے کے بعد) تو اگر خریدنے والا شرط نہ لگائے تو پھل بائع کے ہوں گے، اور جو شخص ایسا غلام فروخت کرے جس کے پاس مال ہو ، تو اگر خریدنے والے نے شرط نہ لگائی تو وہ مال بائع کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23980
٢٣٩٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان [عن سلمة بن كهيل] (١) عمن سمع جابر بن عبد اللَّه يقول: قال (٢) رسول اللَّه ﷺ: "من (اشترى) (٣) عبدًا وله مال فماله للبائع إلا أن (يشترط) (٤) المبتاع" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو تو خریدنے والے نے اگر اس مال کی شرط نہ لگائی تو وہ مال بائع کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23981
٢٣٩٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز (بن) (١) رفيع عن عطاء وابن أبي مليكة قالا: قال رسول اللَّه ﷺ: "من باع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع، يقول: اشتريته منك وماله، ومن باع نخلا قد (أبر) (٢) فثمرته للبائع إلا أن يشترط المبتاع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال بھی ہو تو وہ مال بائع کا ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی بھی شرط لگا دے ان الفاظ کے ساتھ کہ میں اس کو اور اس کے مال کو آپ سے خریدتا ہوں، اور جو شخص ایسا درخت خریدے، جس کے پھل پک چکے ہوں تو اس کے پھل بائع کے ہوں گے، مگر یہ کہ خریدنے والا پھلوں کی بھی شرط لگا دے۔
حدیث نمبر: 23982
٢٣٩٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن (أشعث) (١) عن أبي الزبير عن جابر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23983
٢٣٩٨٣ - (و) (١) عن أشعث عن نافع عن ابن عمر قالا: من باع نخلا (فالثمرة) (٢) للبائع إلا أن يشترط المشتري، ومن باع عبدا له مال فالمال للبائع إلا أن يشترط المبتاع (٣).
حدیث نمبر: 23984
٢٣٩٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: قال علي: من باع عبدا وله مال فالمال للبائع (إلا أن يشترط المبتاع) (١)، ومن باع نخلا قد أبرت -يعني: لقحت- (فثمرته) (٢) للبائع إلا أن يشترط المبتاع، قضى به رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال بھی ہو تو وہ مال بائع کا ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی بھی شرط لگا دے ان الفاظ کے ساتھ کہ میں اس کو اور اس کے مال کو آپ سے خریدتا ہوں، اور جو شخص ایسا درخت خریدے، جس کے پھل پک چکے ہوں تو اس کے پھل بائع کے ہوں گے، مگر یہ کہ خریدنے والا پھلوں کی بھی شرط لگا دے۔
حدیث نمبر: 23985
٢٣٩٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن عبيد (اللَّه) (١) (عن) (٢) نافع عن ابن عمر قال: قال عمر: من باع عبدا وله مال فماله لسيده إلا أن يشترط الذي اشتراه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال بھی ہو تو وہ مال آقا کا ہوگا مگر یہ کہ مشتری اس کی شرط لگا دے تو مشتری کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23986
٢٣٩٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي عن عبد اللَّه بن عتبة وشريح قالا: إذا باعه وله مال فماله للمشتري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عتبہ اور حضرت شریح فرماتے ہیں، اگر غلام فروخت کرے اور اس کے پاس مال بھی ہو تو وہ مال مشتری کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23987
٢٣٩٨٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم عنه فقال: المال للمشتري] (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حکم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : مال مشتری کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23988
٢٣٩٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) (عن) (٢) حنظلة عن طاوس سئل عن رجل اشترى عبدا (وله مال) (٣) وشرط ماله، قال: ماله له، وإن لم يشترط فماله لسيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے غلام خریدتے وقت اس کے مال کی بھی شرط لگا دی ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کا مال اس کو ملے گا اور اگر مشتری شرط نہ لگائے تو مال آقا کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23989
٢٣٩٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا بيع وله مال فماله للمشتري.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر مال والا غلام فروخت کیا جائے، تو مال مشتری کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23990
٢٣٩٩٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن قال: إذا باعه وله مال فماله للمشتري] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 23991
٢٣٩٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد أنه كان لا يرى بأسًا إذا باع الرجل غلامه وله مال أن يقول: (١) (أبيعكه) (٢) وماله.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غلام فروخت کرتے وقت یوں کہے کہ میں اس غلام اور اس کے مال کو فروخت کرتا ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔