کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
حدیث نمبر: 23965
٢٣٩٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن سعيد بن جبير عن ابن عمر قال: كنت أبيع الذهب بالفضة والفضة بالذهب، فأتيت ⦗٣٨٥⦘ النبي ﷺ (١) فسألته فقال: "إذا (بايعت) (٢) صاحبك فلا تفارقه وبينك وبينه لبس" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں سونے کی چاندی کے ساتھ اور چاندی کی سونے کے ساتھ بیع کرتا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے ساتھی کے ساتھ بیع کرو تو جب تک تمہارے درمیان کوئی اشتباہ موجود ہو اس سے الگ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23965
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، وقد انفرد برفعه برواية وألفاظ تخالف رواية من وقفه، أخرجه مرفوعًا أحمد (٤٨٨٣)، وأبو داود (٣٣٥٥)، والترمذي (١٢٤٢)، والنسائي (٧/ ٢٨١)، وابن ماجه (٢٢٦٢)، وابن حبان (٤٩٢٠)، والحاكم ٢/ ٤٤، والطيالسي (١٨٦٨)، والدارمي ٢/ ٢٥٩، وابن الجارود (٦٥٥)، والطحاوي في شرح المشكل (١٢٤٨)، والدارقطني (٣/ ٢٣)، والبيهقي ٥/ ٢٨٤، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٩٢، وأخرجه موقوفًا المؤلف كما سبق [٢٣٩٨٥، ٢٣٩٦٤، ٢٣٩٦٦]، والنسائي ٧/ ٨٢، وأبو يعلى (٥٦٥٤)، وانظر: تلخيص الحبير ٣/ ٢٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23965، ترقيم محمد عوامة 22950)
حدیث نمبر: 23966
٢٣٩٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن عبد العزيز بن حكيم قال: سمعت ابن عمر يقول: إذا صرفت دينارا فلا تقم حتى تأخذ ثمنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم دینار کے ساتھ بیع کرو تو جب تک ثمن وصول نہ کرلو وہاں سے مت اٹھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23966
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد العزيز بن حكيم صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23966، ترقيم محمد عوامة 22951)
حدیث نمبر: 23967
٢٣٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة قال: (سمع) (١) (عمرو) (٢) بن عمر يقول: (قال عمر) (٣): (إذا) (٤) استنظرك (حلب) (٥) ناقة فلا (تنظره) (٦) يعني: في الصرف (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ اگر تم سے اونٹنی کا دودھ نکالنے کی مہلت بھی مانگے (بیع صرف میں) تو مہلت مت دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23967
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٣٤٥٥١)، وابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (١٠٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23967، ترقيم محمد عوامة 22952)
حدیث نمبر: 23968
٢٣٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة أن طلحة اصطرف دنانير بوزن فنهاه عمر أن يفارقه حتى يستوفي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ نے چاندی کے بدلہ میں دینار وصول کیے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو منع فرما دیا کہ جب تک پورا ثمن وصول نہ کرلو اس سے جدا مت ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23968، ترقيم محمد عوامة 22953)
حدیث نمبر: 23969
٢٣٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبيد اللَّه بن أبي يزيد عن ابن عباس عن أسامة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما الربا في النساء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سود ادھار میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23969
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٩٦)، والنسائي (٧/ ٢٨١)، وأحمد (٢١٧٧٨)؛ وبنحوه البخاري (٢١٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23969، ترقيم محمد عوامة 22954)
حدیث نمبر: 23970
٢٣٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن هشام عن الحسن وابن سيرين (قالا) (١): إذا بعت ذهبا (لفضة) (٢) فلا تفارقه وبينك وبينه شرط إلا هاء وهاء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سونے کی چا ندی کے ساتھ بیع کرو تو جب تک تمہارے درمیان شرط ہو جدا مت ہو مگر یہ کہ نقد ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23970
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23970، ترقيم محمد عوامة 22955)
حدیث نمبر: 23971
٢٣٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عقبة أبي (الأخضر) (١) قال: سئل ابن عمر عن الذهب يباع بنسيئة، فقال: سمعت عمر بن الخطاب على هذا المنبر وسئل عنه فقال: كل ساعة استنسأه فهو ربا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ سونے کو ادھار فروخت کرنا کیسا ہے ؟ فرمایا میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس منبر پر سنا تھا ان سے سوال کیا گیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : جتنی گھڑی کا بھی اس نے ادھار کیا ہے وہ سب سود ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23971
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23971، ترقيم محمد عوامة 22956)
حدیث نمبر: 23972
٢٣٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة (عن إبراهيم) (١) قال: لا (يفترقا) (٢) إلا (وقد) (٣) تصرم ما بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مشتری اور بائع جدا نہیں ہوں گے جب تک کہ جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو کاٹ نہ دیں (پورا نہ کردیں) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23972
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23972، ترقيم محمد عوامة 22957)
حدیث نمبر: 23973
٢٣٩٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة [عن (شباك) (١) عن إبراهيم] (٢) عن شريح قال: أحب إلي في الصرف أن (يتصادرا) (٣) وليس بينهما لبس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ بیع صرف میں میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ وہ الگ ہوں اور ان کے درمیان کوئی اشتباہ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23973
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23973، ترقيم محمد عوامة 22958)