کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
حدیث نمبر: 23943
٢٣٩٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (عيينة) (١) عن الزهري سمع مالك بن أوس بن الحدثان لمول: سمعت عمر (قال) (٢): قال رسول اللَّه ﷺ: " (الذهب بالورق) (٣) ربا إلا هاء وهاء، و (الفضة بالفضة) (٤) ربا إلا هاء وهاء، و (الشعير بالشعير) (٥) ربا إلا هاء وهاء، والتمر بالتمر ربا إلا هاء وهاء" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سونے کی بیع سونے کے بدلے میں برابر نہ ہو تو سود ہے، اور چاندی کی چاندی کے بدلے برابر نہ ہو تو سود ہے، اور جو کی جو کے بدلے میں برابر نہ ہو تو سود ہے اور کھجور کی کھجور کے بدلے برابر نہ ہو تو سود ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23943
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٣٤)، ومسلم (١٥٨٦)، وسيأتي (١٤/ ٢٧٣)، وأخرجه من طريق المصنف ابن ماجه (٢٢٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23943، ترقيم محمد عوامة 22928)
حدیث نمبر: 23944
٢٣٩٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي الأشعث قال: كنا في غزاة وعلينا معاوية، فأصبنا (فضة وذهبا) (١)، فأمر معاوية رجلا (٢) يبيعها الناس في (أعطياتهم) (٣)، (فسارع) (٤) الناس فيها، فقام عبادة فنهاهم، فردوها، فأتى الرجل معاوية فشكا إليه، فقام معاوية خطيبا فقال: ما بال رجال يحدثون عن رسول اللَّه ﷺ أحاديث يكذبون فيها (٥) لم ⦗٣٧٧⦘ نسمعها؟ فقام عبادة فقال: واللَّه لنحدثن عن رسول اللَّه ﷺ (٦) وإن كره معاوية، قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تبيعوا الذهب (بالذهب) (٧)، ولا الفضة بالفضة، (٨) ولا الشعير بالشعير، ولا التمر بالتمر، ولا الملح بالملح إلا مثلا بمثل سواء (بسواء) (٩) عينا بعين" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاشعث فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جہاد میں تھے جس میں حضرت معاویہ بھی ہمارے ساتھ تھے، ہمیں مال غنیمت میں سونا اور چاندی ملے، حضرت معاویہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بیع کرے اس سونا چاندی میں جو ان کو ملا ہے، لوگوں نے اس میں بہت جلدی کی، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اِ س سے منع فرما دیا، انہوں وہ واپس کردیا، وہ شخص حضرت معاویہ کے پاس شکایت لے کر آیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو کہ جھوٹی ہوتی ہیں جن کو ہم نے نہیں سنا ہوتا ؟ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : خدا کی قسم ہم ضرور رسول اکرم ﷺ سے احادیث بیان کریں گے اگرچہ معاویہ کو وہ بُری لگیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے ، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، نمک کو نمک کے بدلے نہ فروخت کرو، مگر برابر سرابر، ہاتھ در ہاتھ اور نقد۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23944
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٨٧)، وأحمد (٢٢٦٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23944، ترقيم محمد عوامة 22929)
حدیث نمبر: 23945
٢٣٩٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن يزيد (بن) (١) عبد اللَّه (بن) (٢) قسيط عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد قال: قسم فينا رسول اللَّه ﷺ طعاما من التمر (مختلفا) (٣) بعضه أفضل من بعض، فذهبنا (نتزايد فيه) (٤) بيننا، فنهانا رسول اللَّه ﷺ (٥) إلا كيلا بكيل (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان مختلف قسم کی کھجوریں تقسیم فرمائیں جن میں سے بعض بعض سے اعلیٰ تھیں، ہم آپس میں ایک دوسرے کو کم زیادہ دینے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ برابر سرابر بیچو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23945
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ وصرح ابن إسحاق بالسماع عند أحمد، أخرجه أحمد (١١٧٧١)، وأصله عند البخاري (٢١٧٦)، ومسلم (١٥٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23945، ترقيم محمد عوامة 22930)
حدیث نمبر: 23946
٢٣٩٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن يحيى بن سعيد عن نافع عن أبي سعيد أنه سمع النبي ﷺ يقول: "الدينار بالدينار، والدرهم بالدرهم، ليس بينهما فضل، ولا يباع عاجل بآجل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ دینار کو دینار کے بدلے، اور دراہم کو دراہم کے بدلے فروخت کرتے وقت ان میں کمی بیشی نہ ہو، اور نہ ہی ان میں سے نقد کو ادھار کے بدلے فروخت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23946
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٧٧)، ومسلم (١٥٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23946، ترقيم محمد عوامة 22931)
حدیث نمبر: 23947
٢٣٩٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن عون عن نافع عن أبي سعيد عن النبي ﷺ (١) بمثله (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23947
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٧٧)، ومسلم (١٥٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23947، ترقيم محمد عوامة 22932)
حدیث نمبر: 23948
٢٣٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن (محمد) (١) بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يصلح درهم (بدرهمين) (٢) ولا صاع بصاعين، الدينار بالدينار والدرهم بالدرهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک درہم کی بیع دو کے ساتھ اور ایک صاع کی بیع دو صاع کے ساتھ درست نہیں، دینار کو دینار کے بدلے اور دہم کو درہم کے ساتھ (برابر) بیع کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23948
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه البخاري (٢٠٨٠)، ومسلم (١٥٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23948، ترقيم محمد عوامة 22933)
حدیث نمبر: 23949
٢٣٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى بن (عبيد عن) (١) فضيل بن غزوان عن ابن أبي (نُعْم) (٢) عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "الفضة بالفضة وزن بوزن مثل بمثل، والذهب بالذهب وزن بوزن، (مثل بمثل) (٣)، فما زاد فهو ربا، ولا (تباع) (٤) ثمرة حتى يبدو صلاحها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چاندی کو چاندی کے بدلے، برابر سرابر اور سونے کو سونے کے بدلے برابر سر ابر بیع کرو، اور جو زیادتی ہوگی وہ سود ہے ، اور بدو صلاح سے قبل پھلوں کی بیع مت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23949
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٨٨)، وأحمد (٧٥٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23949، ترقيم محمد عوامة 22934)
حدیث نمبر: 23950
٢٣٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن فضيل بن (غزوان) (١) قال: حدثني أبو دهقانة قال: كنت جالسا عند عبد اللَّه بن عمر فقال: أتى رسول اللَّه ﷺ ⦗٣٧٩⦘ ضيف فقال لبلال: "ائتنا بطعام"، فذهب بلال إلى صاعين من تمر (فاشترى) (٢) به صاعا من تمر جيد، وكان تمرهم (دونا) (٣)، فأعجب النبي ﷺ التمر فقال النبي ﷺ: "من أين هذا التمر"، فأخبره أنه بدل صاعين بصاع فقال رسول اللَّه ﷺ: "رد علينا تمرنا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو دھقانہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مہمان آیا، آپ علیہ السلام نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ہمارے لئے کھانا لاؤ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ دو صاع کھجور لے کر گئے اور ان کے بدلے ایک صاع اعلیٰ کھجور لے آئے، جبکہ ان کی کھجور اس سے ادنیٰ تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور پسند آئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ انہوں نے بتایا کہ دو صاع دے کر ایک صاع لایا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں ہماری کھجوریں واپس لا کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23950
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23950، ترقيم محمد عوامة 22935)
حدیث نمبر: 23951
٢٣٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن فضيل عن (١) أبي دهقانة عن ابن عمر عن النبي ﷺ (٢) بمثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23951
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23951، ترقيم محمد عوامة 22936)
حدیث نمبر: 23952
٢٣٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (خالد) (١) عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن عبادة (٢) بن الصامت قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الذهب بالذهب، والفضة (بالفضة) (٣)، والشعير بالشعير، والملح بالملح، مثلا (بمثل) (٤) يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، نمک کو نمک کے بدلے، برابر سرابر اور ہاتھ در ہاتھ فروخت کرو، اور اگر یہ چیزیں (جنس) مختلف ہوں تو پھر نقد جس طرح چاہو فروخت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23952
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٨٧)، وأحمد (٢٢٧٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23952، ترقيم محمد عوامة 22937)
حدیث نمبر: 23953
٢٣٩٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم (بن) (١) جابر عن عبادة بن الصامت قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "الذهب بالذهب الكفة بالكفة، (والفضة بالفضة) (٢) الكفة بالكفة حتى (خص) (٣) الملح"، فقال عبادة: إني واللَّه ما أبالي أن (لا) (٤) أكون بأرض بها معاوية (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : سونے کو سونے کے عوض اور چاندی کو چاندی کے عوض دیتے وقت پلڑے کو پلڑے سے برابر کر کے دو (یعنی ہم وزن ہونے چاہئیں) حضرت عبادہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں اس سر زمین میں نہیں ہوں کہ جس میں معاویہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23953
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23953، ترقيم محمد عوامة 22938)
حدیث نمبر: 23954
٢٣٩٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع) (١) قال: حدثنا إسماعيل بن مسلم العبدي قال: حدثنا أبو المتوكل الناجي عن (أبي) (٢) سعيد الخدري، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح (يدًا بيد مثلًا بمثل) (٣) فمن زاد (أو) (٤) استزاد فقد أربى، الآخذ والمعطي فيه سواء" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گندم کو گندم کے بدے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے نقد اور برابر سرابر فروخت کرو، پس جو زیادہ دے یا زیادہ طلب کرے اس نے سودی معاملہ کیا، اور اس میں دینے اور لینے والا دونوں برابر ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23954
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٨٤)، وأحمد (١١٩٢٨)، وأصله في البخاري (٢١٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23954، ترقيم محمد عوامة 22939)
حدیث نمبر: 23955
٢٣٩٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن جبلة بن ⦗٣٨١⦘ (سحيم) (١) عن عبد اللَّه بن عمر (عن عمر) (٢) قال: أيها الناس! لا تشتروا دينارا بدينارين، ولا درهما بدرهمين، فإني أخاف عليكم (الرما) (٣)، قيل: وما (الرّما) (٤)؟ قال: الذي تدعونه (الربا) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! ایک دینار کو دو کے بدلے، اور ایک درہم کو دو کے بدلے نہ بیچو، بیشک مجھے تم پر الرّماء کا خوف ہے : پوچھا گیا : الرّماء کیا ہے ؟ رماء وہی ہے کہ جس کو تم لوگ سود کا نام دیتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23955
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23955، ترقيم محمد عوامة 22940)
حدیث نمبر: 23956
٢٣٩٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (عياش) (١) العامري عن مسلم بن (نذير) (٢) السعدي قال: سئل علي عن الدرهم بالدرهمين فقال: الربا العجلان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک درہم کی دو درہم کے ساتھ بیع کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا یہ ربا العجلان ہے۔ (ربا القرض)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23956
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مسلم بن نذير صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23956، ترقيم محمد عوامة 22941)
حدیث نمبر: 23957
٢٣٩٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد (عن) (١): أربعة عشر من أصحاب محمد ﷺ (٢) (أنهم) (٣) قالوا: الذهب بالذهب والفضة بالفضة، و (اتقوا) (٤) الفضل، منهم: أبو بكر وعمر وعثمان وعلي وسعد وطلحة والزبير (٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23957
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف، مجاهد لا يروي عنهم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23957، ترقيم محمد عوامة 22942)
حدیث نمبر: 23958
٢٣٩٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن زيد بن جبير قال: سأل رجل ابن عمر عن الذهب والفضة فقال ابن عمر: الذهب بالذهب، والفضة بالفضة وزن بوزن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے سونے کو چاندی کے بدلے فروخت کرنے کے متعلق دریافت کیا ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے ، برابر سرابر فروخت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23958
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23958، ترقيم محمد عوامة 22943)
حدیث نمبر: 23959
٢٣٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع حدثنا) (١) ابن أبي ليلى عن الحكم عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى قال: قال عمر: (لا تبيعوا) (٢) الدرهم بالدرهمين فإن ذلك هو الربا العجلان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ایک درہم کو دو کے بدلے مت فروخت کرو، یہ ربا العجلان ہے۔ (ربا القرض ہے۔ )
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23959
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف بن أبي ليلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23959، ترقيم محمد عوامة 22944)
حدیث نمبر: 23960
٢٣٩٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إسحاق (١) عن (وهيب) (٢) عن يحيى ابن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن أبي بكرة (عن أبيه) (٣) قال: نهانا رسول اللَّه ﷺ-ﷺ أن نبيع الذهب بالذهب والفضة بالفضة إلا سواء بسواء، وأمرنا أن نبيع الذهب بالفضة والفضة بالذهب كيف شئنا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں، سونے کو سونے کے ساتھ اور چاندی کو چاندی کے برابر سرابر کے علاوہ بیع کرنے سے منع فرمایا تھا، اور ہمیں حکم دیا تھا کہ سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو سونے کے بدلے جس طرح چاہو فروخت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23960
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٨٢)، ومسلم (١٥٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23960، ترقيم محمد عوامة 22945)
حدیث نمبر: 23961
٢٣٩٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يعلى) (١) عن الكلبي عن (سلمة) (٢) (بن السائب) (٣) عن أبي رافع عن أبي بكر قال: سمعت النبي ﷺ (٤) يقول: "الذهب ⦗٣٨٣⦘ بالذهب (وزن بوزن) (٥)، والفضة بالفضة (وزن بوزن) (٦)، الزائد والمستزيد في النار" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں سونے کو ساتھ کے ساتھ، برابر سرابر اور چاندی کو چاندی کے بدلے برابر سرابر فروخت کرو، زیادہ دینے والا اور زیادہ طلب کرنے والا دونوں جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23961
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا، الكلبي محمد بن السائب متروك، أخرجه أبو يعلى (٥٥)، وإسحاق والمصنف في المسند كما في المطالب (١٣٦٩)، والمروزي في مسند أبي بكر (٨١)، والحارث كما في البغية (٤٤١)، وعبد بن حميد (٦)، والبزار (٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23961، ترقيم محمد عوامة 22946)
حدیث نمبر: 23962
٢٣٩٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة قال: (أخبرنا) (١) حبيب بن أبي ثابت قال: سمعت أبا النهال قال: (سألت) (٢) البراء بن عازب وزيد ابن أرقم عن الصرف، فكلاهما يقول: نهى رسول اللَّه ﷺ عن بيع الورق بالذهب دينا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عاذب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے صرف کے متعلق دریافت کیا ؟ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی سونے کے ساتھ ادھار بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23962
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٨٠)، ومسلم (١٥٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23962، ترقيم محمد عوامة 22947)
حدیث نمبر: 23963
٢٣٩٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا نصر بن (علي) (١) (الجهضمي) (٢) عن قيس بن رباح (الحداني) (٣) عن (ملكة) (٤) ابنة (هانئ) (٥) قالت: دخلت على عائشة وعليَّ (سواران) (٦) من فضة فقلت: يا أم المؤمنين! ⦗٣٨٤⦘ (أبيعهما) (٧) بدراهم؟ فقالت: (لا) (٨)، الفضة بالفضة وزن بوزن مثل بمثل (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ملکہ فرماتی ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میرے اوپر چاندی کے دو کنگن تھے۔ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین ! کیا میں ان کو دراہم کے بدلے فروخت کرسکتی ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں چاندی کو چاندی کے بدلے برابر سرابر بیچو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23963
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23963، ترقيم محمد عوامة 22948)
حدیث نمبر: 23964
٢٣٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان قال: سمعت عبد العزيز بن حكيم (١) يقول: شهدت ابن عمر وأتاه رجل من أهل البصرة فقال: إني جئت من عند قوم يصرفون الدراهم الصغار فيأخذون بها كبارا، قال: أيزدادون؟ قال: نعم! قال: لا! إلا وزنا بوزن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن حکیم فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے پاس بصرہ کا ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا میں ایسے لوگوں کے پاس سے آیا ہوں جو چھوٹے دراہم دے کر اس کی جگہ بڑے دراہم لیتے ہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا وہ زیادہ لیتے ہیں ؟ اس شخص نے عرض کیا ہاں ! آپ نے فرمایا : نہیں کرسکتے مگر برابر سرابر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23964
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد العزيز بن حكيم صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23964، ترقيم محمد عوامة 22949)