کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جس کا کیل یا وزن نہ کیا جاتا ہو اُس کی قبضہ سے قبل بیع کرنا
حدیث نمبر: 23934
٢٣٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة عن عبد ربه عن أبي عياض عن عثمان أنه كان لا يرى بأسا ببيع كل شيء قبل أن يقبض ما خلا الكيل والوزن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان ہر چیز کی بیع قبضہ سے پہلے کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے سوائے کیلی اور وزنی چیزوں کے۔
حدیث نمبر: 23935
٢٣٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23936
٢٣٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام [عن قتادة عن سعيد بن المسيب مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23937
٢٣٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام] (١) عن محمد قال: إذا اشترى الرجل الشيء مما لا يكال ولا يوزن فلا بأس أن يبيعه قبل أن يقبضه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر انسان کوئی ایسی چیز خریدے جس کو کیل اور وزن کیا جاتا ہو تو اس پر قبضہ سے پہلے بیع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23938
٢٣٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبيه عن إبراهيم في الرجل يبيع البيع قبل أن يقبضه، قال: إنما يقول ذلك في الكيل والوزن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو قبضہ سے پہلے مبیع کو فروخت کر دے، فرمایا : یہ کیل اور وزن کے بارے میں کہا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 23939
٢٣٩٣٩ - [حدثنا أبو بكر قال] (١): حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عمرو عن طاوس عن ابن عباس قال: إنما كان (النهي) (٢) فيما يكال ويوزن، (ولا أحسب ما سوى ذلك إلا مثله) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ممانعت اور منع ان چیزوں میں کیا گیا ہے جو کیلی اور وزنی ہیں، اور میں ان کے علاوہ کو بھی انہی کے مثل سمجھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 23940
٢٣٩٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن حجاج عن عطاء مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 23941
٢٣٩٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن الحكم وحماد (قالا) (١): كل شيء لا يكال ولا يوزن فلا بأس أن يبيعه قبل أن (٢) يقبضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو کیلی اور وزنی نہ ہو ان کی قبضہ سے قبل بیع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23942
٢٣٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون قال: قلت للقاسم بن محمد: الرجل يشتري المتاع وهو غائب، (أيبيعه) (١) قبل أن يقدم؟ قال: القاسم: كنا نقول: حتى يقدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے دریافت کیا کہ کسی شخص مبیع خریدے جو ابھی موجود نہیں ہے تو کیا وہ اس کے آنے سے پہلے (قبضہ سے پہلے) اس کی آگے بیع کرسکتا ہے ؟ حضرت قاسم نے فرمایا ہم کہتے تھے کہ جب تک مبیع حاضر نہ ہوجائے آگے نہ بیچے۔