حدیث نمبر: 23927
٢٣٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين عن شريح أنه كان يقول إذا اختلفوا في النقد: لك الجيد والحسن والطيب، فإن ذهب الأعلى (فاترك) (١) الأسفل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب نقدی کے متعلق اختلاف ہو ، تو تیرے لئے، جید ، اچھا اور پاکیزہ ہے، اگر اعلیٰ چلا جائے تو اسفل کی طرف اتر (اُس کو چھوڑ دے) ۔
حدیث نمبر: 23928
٢٣٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (أبي) (١) الجراح قال: حدثني موسى بن سالم قال: لما أجلى الحجاج أهل الأرض أتتني امرأة بكتاب زعمت (أن) (٢) الذي (أُعتق) (٣) أبوها: هذا ما اشترى طلحة بن عبيد اللَّه من فلان بن فلان، اشترى منه (فناءه) (٤) (دينارًا أو درهمًا) (٥) بخمسمائة درهم بالجيد (والطيب والحسن) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے اہل الارض کو بری الذمہ کیا، میرے پاس ایک خاتون مکتوب لے کر آئی ، اس کا خیال تھا کہ بیشک اس کے والد کو آزاد کیا گیا ہے۔ (کہنے لگی) یہ وہ ہے جس کو طلحہ بن عبید اللہ نے فلان بن فلان سے خریدا، اس نے ایک نوجوان سے دینار یا درہم کے بدلے میں خریدا پانچ سو درہم کے بدلے میں جو جید، عمدہ اور اچھے تھے، اور اس کو ثمن بھی دے دیا، اور اس کو اللہ کے لئے آزاد کردیا۔
حدیث نمبر: 23929
٢٣٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن (الحجاج) (١) عن عبد الرحمن بن عابس عن أبيه قال: اشترى حذيفة (من رجلين من النخع ناقة) (٢) [وشرط (لها) (٣) من النقد رضاهما] (٤) فجاء بهما (إلى) (٥) منزله فأخرج لهما (كيسًا) (٦) (فافسلا) (٧) عليه (ثم أخرج لهما كيسًا فافسلا عليه) (٨) فقال حذيفة: ⦗٣٧٣⦘ (إني باللَّه) (٩) منكما، إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من شرط على صاحبه شرطا لم يف له، به كان كالمدلي (بجاره) (١٠) إلى غير (منعة) (١١) " (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مقام نخع کے دو شخصوں سے اونٹنی خریدی، اور شرط لگا دی کہ جس پر وہ دونوں راضی ہوں گے وہ نقدی دی گے ، پھر وہ ان دونوں کو اپنے مکان پر لائے، اور ان کے لیے ایک تھیلی نکالی، انہوں نے کہا یہ کھوٹے ہیں، انہوں نے پھر ایک اور تھیلی نکالی، انہوں نے پھر کہا یہ کھوٹے ہیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم میں بھی تم میں سے ہوں، میں نے خود رسول اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ، جو شخص اپنے ساتھی پر شرط لگائے وہ اس کو اس کے لئے پورا نہ کرے، تو وہ گویا کہ ایسے مقام پر ہے کہ اس کا پڑوسی تکلیف میں ہے وہ اس کو اس سے نہیں روکتا۔