حدیث نمبر: 23830
٢٣٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه قال: كان الناس يتحجرون على عهد عمر، فقال: من أحيا أرضا فهي له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ زمینوں کو آباد کرتے تھے، ان میں پتھروں سے نشان لگاتے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے۔
حدیث نمبر: 23831
٢٣٨٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن محمد بن (عبيد اللَّه) (١) الثقفي قال: كتب عمر أنه من أحيا (أرضًا) (٢) (مواتا) (٣) فهو أحق (به) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (عاملوں کو) تحریر فرمایا : جو بنجر زمین کو آباد کرے وہ اس زمین کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 23832
٢٣٨٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن ابن أبي رافع عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أحيا أرضا ميتة فله فيها أجر، وما أكلت العافية (فهي) (١) له صدقة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بنجر زمین آباد کرے اُ س کو اس پر اجر ملے گا، اور راہ گزر جو کچھ کھالے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 23833
٢٣٨٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أحيا أرضا ميتة فهي له، وليس لعرق ظالم حق" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ملکیت ہے۔ اور ظالم کی اولاد کا کوئی حق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23834
٢٣٨٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن ليث عن أبي بكر بن حفص يرفعه قال: "من أحيا أرضا على (دعوة) (١) من المصر فله رقبتها إلى ما يصيب فيها من الأجر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن حفص رحمہ اللہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو کوئی شہر والوں کے کہنے پر بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ رقبہ اسی کا ہوگا۔ اور مزید براں اس کو ثواب بھی ملے گا۔
حدیث نمبر: 23835
٢٣٨٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن طاوس قال: من أحيا شيئا من (موتان) (١) الأرض فله رقبتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جو بنجر زمین سے کچھ آباد کرے تو اس کا رقبہ اسی کا ہے۔
حدیث نمبر: 23836
٢٣٨٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ليث عن طاوس عن ابن عباس مثل حديث معتمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23837
٢٣٨٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابن طاوس عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أحيا أرضا ميتة فله رقبتها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص بنجر زمین آباد کرے تو اس کا رقبہ اس کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 23838
٢٣٨٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق الأزرق عن هشام عن الحسن قال: من أحيا أرضا مواتا لم تكن لأحد قبله فهي له.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جو شخص کوئی ایسی بنجر زمین آباد کرے جو اس سے قبل کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہ اسی کی ہوگی۔ حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے بھی یہی تحریر فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 23839
٢٣٨٣٩ - قال هشام: وكتب بذلك عمر بن عبد العزيز.
حدیث نمبر: 23840
٢٣٨٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن هشام (الدستوائي) (١) (عن) (٢) عبيد اللَّه (بن) (٣) حميد الحميري عن الشعبي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ترك دابة بمهلكة فهي للذي أحياها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنی سواری ہلاکت والی جگہ چھوڑ دے تو وہ اس کی ہوگی جو اس کو لے جا کر پرورش کرے۔
حدیث نمبر: 23841
٢٣٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عثمان بن (غياث) (١) قال: سئل الحسن عن الرجل يترك دابته بالأرض القفر (فيأخذها) (٢) رجل (فيصلحها) (٣) ويقوم عليها حتى يصلحها؟ قال: هي لمن أحياها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنے جانور کو بنجر زمین میں چھوڑ دیا وہاں سے اس کو ایک شخص نے اٹھا لیا اور اس کی پرورش کی، اور اس کو دھیان رکھتا رہا یہاں تک کہ وہ تندرست اور ٹھیک ہوگیا ؟ آپ نے فرمایا وہ اسی کا ہوگا جس نے اس کو زندگی بخشی ہے۔ اور پرورش کی ہے۔
حدیث نمبر: 23842
٢٣٨٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي ﷺ (قال) (١): "من أحاط حائطا على أرض فهي له" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے بنجر زمین پر چار دیواری کرلی وہ اس کی ہوگی۔