کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد ولا یأب الشھداء اذا مادعوا کی تفسیر میں جو وارد ہوا ہے
حدیث نمبر: 23819
٢٣٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله: ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا (١)﴾ [البقرة: ٢٨٢] (قال) (٢): إذا كانت عندك الشهادة فقد (دعيت) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَلاَ یَأْبَ الشُّہَدَائُ إذَا مَا دُعُوا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب آپ کے پاس گواہی ہے تو پس آپ کو بلایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 23820
٢٣٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: إذا (ابتدأ) (١) ليشهد، وإذا دعي ليقيمها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب ابتداء کرے تو چاہیے کہ آپ گواہی دیں اور جب پکارا جائے تو چاہیئے کہ کھڑا ہوا جائے۔
حدیث نمبر: 23821
٢٣٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد (عن) (١) (الحسن) (٢) عن (سالم عن) (٣) عن (سعيد) (٤) بن جبير في قوله: ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ قال: هو ⦗٣٤٦⦘ الرجل (يشهد) (٥) على الشهادة ثم يدعى لها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ اللہ کے ارشاد { وَلاَ یَأْبَ الشُّہَدَائُ إذَا مَا دُعُوا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جو کسی کی گواہی کی گواہی دے، پھر اس کو اس کے لئے بلایا جائے۔
حدیث نمبر: 23822
٢٣٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عمران بن (حدير) (١) قال: قلت لأبي (مجلز) (٢): إني أدعى إلى الشهادة وأنا أكره؟ قال: دع ما تكره، ولكن إذا شهدت فدعيت فأجب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مجلز رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ مجھے گواہی کی طرف بلایا جاتا ہے اور میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : جو چیز آپ کو پسند نہیں ہے اس کو چھوڑ دو ، لیکن آپ دیکھ چکے ہوں پھر آپ کو بلایا جائے تو پھر اس کو قبول کرو۔
حدیث نمبر: 23823
٢٣٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال: من دعي إلى شهادة فليجب، ولكن (لا تشهد) (١) إلا على ما (تعلم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جس کو گواہی کی طرف بلایا جائے تو اس کو چاہیئے کہ قبول کرے، مگر جو اُ س کو معلوم ہے صرف اسی کی گواہی دے۔
حدیث نمبر: 23824
٢٣٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا محمد بن ثابت قال: سمعت عطاء وسئل ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ قبل أن (يشهدوا) (١) أو بعد؟ قال: لا! (بل) (٢) بعد ما شهدوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ { وَلاَ یَأْبَ الشُّہَدَائُ إذَا مَا دُعُوا } یہ ان کی گواہی دینے سے پہلے ہے یا بعد میں ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ان کی گواہی دینے کے بعد ہے۔
حدیث نمبر: 23825
٢٣٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن أبي حصين عن سعيد بن المسيب قال: (إذا) (١) كانوا (قد أشهدوا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ گواہی دے چکے ہوں۔
حدیث نمبر: 23826
٢٣٨٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن الشعبي قال: الشاهد بالخيار ما لم يشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک گواہ نے گواہی نہیں دی اس کو اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 23827
٢٣٨٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن شريك عن سالم عن سعيد قال: الذي عنده الشهادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ وہ شخص ہے جس کے پاس گواہی ہو۔
حدیث نمبر: 23828
٢٣٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ قال: إذا كانوا قد شهدوا قبل هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ ولا یأب الشہداء اذا مادعوا کے متعلق فرماتے ہیں کہ جبکہ اس سے قبل گواہی دے چکے ہوں۔
حدیث نمبر: 23829
٢٣٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ قال: إذا كانوا قد شهدوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے اسی طرح مروی ہے۔