کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: والد اپنے بیٹے سے کوئی چیز خریدے یا اُس کو کوئی چیز فروخت کرے
حدیث نمبر: 23778
٢٣٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن (داود عن) (١) بكر قال: زوج (رجل) (٢) من أهل لبادية ابنته وساق مهرها (٣) ثم مات، (وخاصمت) (٤) إخوتها في مهرها إلى عمر بن الخطاب فقال عمر: أما ما وجدت من مهرك قائما بعينه فهو لك، وما كان أبوك استهلكه فلا شيء لك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دیہاتی لڑکی سے شادی کی اس کو مہر دیا اور پھر وہ فوت ہوگیا، وہ لڑکی اپنے بھائیوں سے مہر کے بارے میں جھگڑ اور عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ لے کر آئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تمہارے مہر میں سے جو چیز موجود ہو وہ تمہارے لئے ہے۔ اور جس کو تمہارے والد نے ہلاک کردیا ہے اس میں تمہارے لئے کچھ نہ ہے۔
حدیث نمبر: 23779
٢٣٧٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عمه عن الشعبي عن شريح أنه حبس رجلا في خادم (باعها) (١) لابنته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح نے ایک شخص کو قید کیا خادم کے معاملہ میں جس نے اپنے بیٹی کے لئے اس غلام کو فروخت کیا تھا، حضرت ابن ادریس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی لیلی کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو خادم کی وجہ سے قید میں ڈالا اس نے اس کو اپنے بیٹے کے لئے فروخت کیا تھا۔
حدیث نمبر: 23780
٢٣٧٨٠ - [قال ابن إدريس: ورأيت ابن أبي ليلى حبس رجلا في خادم (باعها) (١) لابنته] (٢).
حدیث نمبر: 23781
٢٣٧٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر عن شريح وأبي عبد اللَّه الجدلي أنهما (حبسا) (١) رجلا في السجن أخذ (من) (٢) مهر ابنته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح اور عبد اللہ الجدلِی نے ایک شخص کو جیل میں ڈال دیا اس نے بیٹی کے مہر میں سے لیا تھا۔
حدیث نمبر: 23782
٢٣٧٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن سلمة عن قتادة عن عبيد (بن) (١) قدامة قال: قضى عمر بن الخطاب في مهور النساء: ما كان (قائما) (٢) بعينه (فهي) (٣) أحق به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں کے مہروں کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ جو بعینہٖ موجود ہوں تو وہ خواتین اس کی زیادہ حق دار ہیں۔
حدیث نمبر: 23783
٢٣٧٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم قال: لا يكون للولد على والده (دين) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیٹے کا باپ پر دین نہ ہوگا۔